زندگی کی سانس

ملینیم الائنس انعام یافتہ کو ایو لیبس انڈیا کے کم آمدنی والے علاقوں میں بچوں میں سانس کی دشواری کے مرض کی وجہ سے ہونے والے نمونیا سے ہونے والی اموات کو روکنے کا حل پیش کرتی ہے۔

جیسون چیانگ

April 2020

زندگی کی سانس

کوایو لیبس کے آلات تنفس نوزائیدہ میں سانس کی تکلیف کی علامات میں ہوا کی ترسیل کو یکساں رکھتی ہیں۔ تصویر کوایو لیبس

ینگالورو میں واقع میڈیکل ٹیکنالوجی کی کمپنی اِن اَیسیل کی میڈٹیک ریسرچ فیلوشپ کے تحت اَیفورڈیبُل اننووینشنس نے طبی ضرورتوں کا اندازہ لگانے کے لیے ایک پروگرام شروع کیا۔اس پروگرام کے تحت دو کاروباری پیشہ وروں نے یہ ذمہ داری لی کہ وہ صحت کی دیکھ بھال کی صنعت کو درپیش اہم مسائل کی نشاندہی کریں گے اور ان کے لیے کوئی دیسی حل تجویز کریں گے۔ ڈھائی ماہ تک نتیش کے۔جانگیر اور نچیکیت دیوال نے بینگالورو کے ایک اسپتال میں ڈاکٹروں، مریضوں اور دیگر طبی عملے کا خاموشی کے ساتھ مشاہدہ کیا۔ اس کا مقصد ان کو درپیش روز مرہ کے مسائل کو بہتر طور پر سمجھنا تھا۔اکتوبر ۲۰۱۴ء میں ان کاروباری پیشہ وروں نے بینگالورو میں کو ایو لیبس نام کی کمپنی قائم کی تاکہ کم وسائل والے علاقوں میں اختراعی حل پیش کیے جا سکیں۔

جانگیر اور دیوال کے مشاہدے میں ایک بڑا مسئلہ یہ آیا کہ انڈیا میں سانس لینے کی دشواری کی وجہ سے ہر سال ۲ لاکھ ۵۰ ہزار بچے موت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ان میں سے ۳۲ فی صد بچے اسپتال لے جاتے ہوئے دم توڑ دیتے ہیں۔ کو نٹی نیواَس پوزیٹو ایئر وے پریشر (سی پی اے پی)کے استعمال سے ان میں سے بہت سارے بچوں کی جان بچائی جا سکتی ہے۔بد قسمتی یہ ہے کہ نومولود اور چھوٹے بچوں کی ایک بڑی تعداد اسپتال لے جائے جاتے ہوئے اس تکنیک سے فیضیاب نہیں ہو پاتی۔ اس کے علاوہ ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ کئی صحت مراکز پر نہ تو بجلی دستیاب ہوتی ہے اور نہ تربیت یافتہ عملہ۔اسی ضرورت کے مد نظر کو ایو لیبس نے سانس (بغیر بجلی کے چلنے والا، پوری طرح میکانکی سی پی اے پی آلہ)متعارف کیا جس کے ذریعہ سانس لینے میں دشواری محسوس کر نے والے نومولود بچوں کے لیے اسپتال لے جائے جانے کے دوران ہوا کا مطلوبہ بہاؤ برقرار رکھا جاسکتا ہے۔کو ایو لیبس نے اپنی توجہ وینٹیلیٹر کی بدولت ہونے والے نمونیا پر بھی مرکوز کی جو اسپتالوں کی انتہائی نگہداشت والی یونٹوں میں ہونے والی اموات کی بڑی وجہ ہے۔اور اس طور پر انہوں نے وَیپ کیئرنامی نگہداشت کاایک اہم آلہ تیار کیا۔

اپنی انہیں خدمات کے لیے کو ایو لیبس کو ملینیم الائنسکی جانب سے مالی عطیہ ملا۔ ملینیم الائنس حکومت ہند، امریکی ایجنسی برائے بین الاقوامی ترقی (یو ایس ایڈ)اور دیگر اداروں پر مشتمل ایک انجمن ہے۔ پیش خدمت ہیں جانگیر سے انٹرویو کے اقتباسات۔

آپ کی دلچسپی صحت سے متعلق خدمات میں کب پیدا ہوئی؟

میری پیدائش راجستھان کے ایک گاؤں میں ہوئی۔میرے گھر سے قریب ترین اسپتال بھی ۱۵۰ کیلو میٹر دور تھا۔ اس وجہ سے میں نے لوگوں کو وقت پر طبی سہولت نہیں مل پانے کی وجہ سے جان گنواتے دیکھا۔ اس سے مجھے ترغیب ملی کہ میں ایک ڈاکٹر بنوں تاکہ لوگوں کی خدمت کر سکوں۔ مگر طبیعیات اور حیاتیات بھی میری دلچسپی کے مضامین رہے ہیں۔

کیا آپ کوایو لیبس کے بارے میں اختصار سے بتا سکتے ہیں؟

کو ایو لیبس اصل میں طبی آلہ جات بنانے والی کمپنی ہے۔ اس کا مقصد ہنگامی اور انتہائی ضروری حالات میں ایسے انسانوں کی طبی ضرورتوں کی تکمیل ہے جن کو ایسی سہولتیں دستیاب نہیں ہو پاتیں۔ ہمارا مقصد ہنگامی اور انتہائی ضروری حالات میں ہو جانے والی اموات کو روکنا ہے۔

ہماری کمپنی کی توجہ مقامی ضرورتوں اور مسائل کی تفہیم اور ان کے مناسب حل پر ہے۔انڈیا جیسے ملک میں ۷۵ فی صد سے زیادہ طبی آلات دوسرے ملکوں سے منگوائے جاتے ہیں۔ اور اضافی قیمت ادا کرنے کے باوجود بسا اوقات یہ مصنوعات کم وسائل والے علاقوں کے لیے موزوں نہیں ہوتی ہیں۔ہم یہ حالات بدلنا چاہتے تھے اور اس بات کی مثال قائم کرنا چاہتے تھے کہ کم وسائل والے علاقوں کی ضرورتوں کے مد نظر کی جانے والی اختراع نہ صرف مالی اعتبار سے لوگوں کی دسترس میں ہو سکتی ہے بلکہ اس کا معاشرتی اثر بھی پڑ سکتا ہے۔

وینٹیلیٹر سے ہونے والے نمونیا کی روک تھام اور سانس لینے کی دشواری میں مبتلا نومولودوں کو پہلے ہی مرحلے میں مدد پہنچانا دو ایسے مسئلے تھے جن کو ہم حل کرنا چاہتے تھے۔فی الحال ہمارے پاس اس کے دو حل ہیں۔ پہلا سانس(نومولود بچوں کے لیے سانس لینے میں مدد کرنے والا سسٹم) ہے جو محدود وسائل والے خانوادوں میں پیدا ہونے والے ۵۰ لاکھ بچوں کو فائدہ پہنچاتا ہے۔دوسرا انتہائی ضرورت کے وقت درکار آلہ وَیپ کیئر ہے جو ان مریضوں کے لیے ہے جو لمبے عرصے تک وینٹیلیٹر کے استعمال کی وجہ سے اس سے ہونے والے نمونیا کا شکار ہو جاتے ہیں۔

کووِڈ۔19 عالمی وبا کے تدارک کے لیے کوایو لیبس کی جانب سے کیے جانے والے کام کے متعلق کچھ بتائیں؟

ہم نے نومولود بچوں کو سانس لینے میں سہولت دینے والی سی پی اے پی مشینسانس کو مزید بہتر بنایا ہے تاکہ مشین کے ذریعہ کو وِڈ۔۱۹ کے مریضوں کو زیادہ ہوا مہیا کروائی جا سکے۔ یہ مشین بازار میں دستیاب ہے۔

ہماری دوسری مصنوعات وَیپ کیئر کوآندھرا پردیش کے بعض اسپتالوں، کورونا وائرس علاج مراکز اور خلوت نشینی کے لیے قائم وارڈوں میں نصب کیا جا چکا ہے۔یہ ایک ایسا ذہین نظام ہے جو محافظِ صحتِ دہان ہونے کے ساتھ ساتھ رطوبت کا انتظام بھی سنبھالتا ہے۔ یہ مریض کی سانس کی نلی میں اندر تک چلا جاتا ہے (خاص کران مریضوں کے جو وینٹیلیٹر پرہیں)اور بغیر کسی انسانی مداخلت کے خود بخود متاثرہ کے تھوک اور رطوبت کی شناخت کرکے اسے مریض کے جسم سے باہر نکال لیتا ہے تاکہ اسے کوئی ثانوی انفیکشن نہ ہو۔اس کی مدد سے مریض کی دیکھ بھال کرنے والا عملہ بھی مریض کے تھوک کے ذریعہ انفیکشن کا شکار ہونے سے محفوظ رہتا ہے۔مشین کے تھوک اور رطوبت کو چوسنے کے خود کار عمل کی وجہ سے مریض کی دیکھ بھال کرنے والے عملہ کا وقت بھی بچتا ہے کیوں کہ انہیں اس کام کو اپنے ہاتھ سے نہیں کرنا پڑتا ہے۔

صحت کی صنعت میں کام کرنے کی بعض منفرد دشواریاں کیا ہیں؟

کسی بھی نئے تصور یا ایجاد کے ساتھ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ بازار ایسی مصنوعات کو(جن کو پہلے کبھی کسی نے نہیں دیکھا) بہت آہستہ آہستہ قبول کرتا ہے خاص کر تب جب وہ کسی نئی ہندوستانی کمپنی کی ہوں۔اسی لیے ہمیں اپنے بَرینڈ کو کافی مضبوط بنانا پڑا، ہم نے قابل اعتبار طبی اعداد و شمار یکجا کیے، مضبوط اشتراکات کیے اور ان سب کے علاوہ بہترین ڈاکٹروں کے ساتھ کام کیا تاکہ ہم یہ ثابت کرسکیں کہ ہماری مصنوعات عالمی معیار کی ہیں۔

۲۰۱۶ء میں ملینیم الائنس کی جانب سے گرانٹ ملنے سے آپ کو اپنے کام میں کیا مدد ملی؟

ہمیں ملینیم الائنس کی جانب سے گرانٹ ایسے وقت ملی جب ہمارے پاس اپنے تصور کو ثابت کرنے کے لیے ضروری ثبوت موجود تھے۔ اور ہمیں مصنوعات سازی کے لیے پیسے درکار تھے۔ملینیم الائنس کے شراکت داروں کی جانب سے صلاحیت سازی سے متعلق ورکشاپ کافی کارآمد ثابت ہوئے۔ اس سے ہمیں پروجیکٹ کے انتظام و انصرام کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملی۔فنڈنگ کی رقم اور اس کے ساتھ ملنے والی توثیق سے ہمیں مصنوعات کو بنانے اور صارفین حاصل کرنے میں کافی مدد ملی۔اس سے ہمیں مصنوعات کی حقیقی طور پر جانچ کرنے میں مدد ملی۔ اس کی بدولت صحت کی دیکھ بھال سے متعلق عملے کو انسانی جانوں کو بچانے میں مدد ملی۔

سانس آلہ کی موجودہ صورت حال کیا ہے اور آپ کی کمپنی کے اس سے متعلق مستقبل کے منصوبے کیا ہیں؟

ہند اور افریقہ میں صحت کی دیکھ بھال کرنے والے بہت سارے افراد نے ہماری مصنوعات خریدی ہیں۔آلہ کے دو طبی تجربے کیے جا چکے ہیں۔ اس نے ۱۰۰۰ سے زیادہ بچوں کی زندگیاں بچانے میں مدد کی ہے اور یہ سلسلہ جاری ہے۔

ملک میں اس وقت ۶۰ ہزار سے زائد پیدائش کے مراکز ہیں اور ہماری موجودگی ان کے ۱۰ فی صد میں بھی نہیں ہے۔ہمارا ہدف ہے کہ اگلے ۵ برسوں میں ان میں سے ۵ ہزار مراکز تک ہماری رسائی ہو اور ہم صحت کارکنوں کی مدد کریں کہ وہ مزید ایک لاکھ زندگیاں بچا سکیں۔ہم سرکاری اور نجی شراکت داریوں کے مواقع تلاش رہے ہیں تاکہ اس ہدف کو پانے کے ساتھ ساتھ اقتصادی پائداری بھی حاصل کرسکیں۔

جیسون چیانگ لاس اینجلس کے سِلور لیک میں مقیم ایک آزاد پیشہ قلمکار ہیں۔



تبصرہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے