ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کی قوت پیدا کرنا

غذائی پیداوار کے ایک پائیدار نظام کی تشکیل کے لیے یو ایس ایڈ انڈیا کے مالی تعاون سے جاری ایک منصوبہ ہر قسم کی آب و ہوا میں کام کرنے والے زرعی طریقوں اور تکنیک کو فروغ دیتا ہے۔

پارومیتا پین

June 2021

ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کی قوت پیدا کرنا

 

بہار کے امرورا گاؤں میں فصل کی پیداوار کی پیمائش۔ یہ پیمائش موسم کے اعتبار سے چاق و چوبند زرعی طریقے کو استعمال کرنے کی تربیت کا حصہ ہے۔ تصویر بشکریہ بی اے آئی ایف ڈیولپمنٹ ریسرچ فاؤنڈیشن۔

طوفان، سیلاب اور خشک سالی جیسے موسم کے شدید حالات پوری دنیا میں زرعی پیداوار اور غذائی تحفظ کے لیے خطرہ ہیں۔ لہٰذا زرعی نمو کو برقرار رکھنے اور غذائی پیداوار کے لچکدار نظام کی تشکیل کے لیے آب و ہوا کی تبدیلی کے ان اثرات کو کم کرنا نہایت اہم ہے ۔ کاشتکاری سے متعلق ان پریشانیوں سے نمٹنے کے لیے امریکی ایجنسی برائے عالمی ترقی کی بھارتی شاخ (یو ایس ایڈ انڈیا) نے’’بھارت کے ضرر پذیرعلاقوں میں لچکدار زرعی مشقوں، تکنیک اور خدمات کے فروغ سے متعلق منصوبے‘‘کو مالی اعانت فراہم کی ہے ۔ یو ایس ایڈانڈیا میں ڈیولپمنٹ اسِسٹینس اسپیشلِسٹ وامسیدھر ریڈی کہتے ہیں کہ اس منصوبے نے ’’مختلف موسمیاتی حالات سے نمٹنے والے ایسے گاؤں فروغ دینے کا طریقہ اختیار کیا جہاں کاشت کاروں، محققوں، نجی شعبے کے نمائندوں اور پالیسی سازوں نے ہر قسم کے موسمیاتی حالات میں کام کرنے والی زراعت کو فروغ دینے کے لیےتکنیک اور پروگرام کے ایک مجموعے کا انتخاب کیا ہے اور اس کا تجربہ کیا ہے۔‘‘

۲۰۲۰ءمیں اختتام پذیر ہونے والے اس منصوبے کو بہار کے نالندہ، مدھیہ پردیش کے بیتُل اور اتر پردیش کے متھورا میں سی جی آئی اے آر ریسرچ پروگرام آن کلائمیٹ چینج، ایگریکلچر اینڈ فوڈ سکوریٹی (سی سی اے ایف ایس)، ساؤتھ ایشیا،  بورلاگ انسٹی ٹیوٹ فار ساؤتھ ایشیا اور انٹرنیشنل میز اینڈ وہیٹ امپروومینٹ سینٹر کے ذریعہ نافذ کیا گیا ۔

ریڈی کہتے ہیں کہ اس پہل کے ذریعہ ’’سائنسی معلومات اور مقامی ضروریات کے مطابق متعدد لچکدار تکنیک، سہولتوں اور طریقوں کا ایک سلسلہ وضع کیا گیا جن کا براہ راست ہدف فصلوں اور مویشیوں سے متعلق سرگرمیاں تھیں۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں ’’روایتی زرعی طریقوں کی توجہ پیداواری صلاحیت پر زیادہ ہوتی ہے جب کہ مختلف قسم کی آب و ہوا سے نمٹنے والی زراعت  پیداواری صلاحیت اور پائیداری کے مابین توازن برقرار رکھتی ہے اور اس سے منسلک شعبوں کے ساتھ مربوط رہتی ہے ۔‘‘

یو ایس ایڈ کی مالی اعانت نے سی سی اے ایف ایس کو تین ریاستوں میں مختلف گاؤں کے ۷۵ جھرمٹوں تک مختلف موسمیاتی حالات سے نمٹنے والے طریقوں کو پہنچانے کے اہل بنایا جہاں اس نے منصوبے کو نافذ کرنے والی  شراکت دار، غیر منافع بخش تنظیم بی اے آئی ایف ڈیولپمنٹ ریسرچ فاونڈیشن  کے تعاون سے صلاحیت سازی کی تربیت، نمائش اور ۱۶کلائمیٹ ۔ اسمارٹ ٹیکنالوجیز سے متعلق مالیاتی خدمات کی حمایت کا اہتمام کیا ۔   نجی شعبے کی معلومات اور مواصلاتی ٹیکنالوجی فراہم کرنے والی کمپنی، انڈین فارمرس فرٹیلائزر کو آپریٹو (اِفکو) کسان سنچار لمیٹیڈ نے زرعی طریقوں سے متعلق نئے نکات پیش کیے۔ مویشیوں، بازاروں اور قیمتوں سے متعلق معلومات فراہم کیں اور مقامی زبانوں میں متن اور صوتی پیغامات کے ذریعہ کسانوں کو حقیقی وقت میں موسم کی پیش گوئی سے آگاہ کیا۔

پروجیکٹ کو شروع کیے جانے سے پہلے ایک بنیادی سروے کے اہتمام سے یہ معلوم ہوا کہ منتخب علاقوں میں قطرہ قطرہ ٹپکنے اور چھڑکاؤجیسی آب و ہوا سے نمٹنے کی بہتر تکنیک، بیج اور چارے کے بینکوں، موسم پر مبنی زراعت سے متعلق مشوروں، تغذیہ اور کیڑوں سے متعلق مربوط بندوبست اور سبز کھاد کا استعمال محدود دائرے میں ہوا کرتا تھا ۔  ریڈی کہتے ہیں ’’کاشتکاری کے لیے بیج، کھاد اور پانی جیسے وسائل کا استعمال اکثر اوقات مناسب مقدار میں نہیں کیا جاتا تھا۔ اس کے علاوہ ان کا استعمال صحیح وقت پر بھی نہیں ہو پاتا تھا یا پھر غلط یا غیر سائنسی طریقوں سے ہوتا تھا۔ اس سروے میں یہ بھی پایا گیا کہ بار بار اور شدت سے پیش آنے والی بارش، زیادہ گرمی، سرد لہر، پالا اورژالہ باری جیسے موسم سے ہونے والے خطرات منتخب اضلاع میں نمایاں عوامل تھے ۔ ‘‘

ریڈی کہتے ہیں’’اس پروجیکٹ میں وسیع پیمانے پر مختلف سرگرمیوں کا استعمال کیا گیا ۔ ان میں آب و ہوا کے بہتر زرعی طریقوں اور تکنیک کے فروغ، ادارہ سازی کے توسط سے صلاحیت سازی اور پائیداری کے حصول کے لیے موجودہ سرکاری منصوبوں اور اسکیموں کے ساتھ ہم آہنگی کے ذریعے فصلوں اور مویشیوں کے بندو بست سے متعلق شعبوں پر توجہ دی گئی۔ ان میں پانی سے متعلق بہترین تکنیک کے  استعمال کے بارے میں تربیت شامل تھی۔ ‘‘ اس کے علاوہ ان میں بُوائی اورپودوں کی روپائی کے طریقوں میں تبدیلی،  گیہوں، دھان، باجرا اور چنے کے لیے مختلف آب و ہوا میں اگنے والے بیج کا استعمال اور تغذیہ کے بندو بست سے متعلق مربوط اور درست  تربیت بھی شامل تھیں۔ ریڈی کہتے ہیں’’ان میں بیجوں کو مختلف عمل سے گزارنے سے  متعلق نمائشوں، حیاتیاتی کھاد اورحیاتیاتی حشرات کش دواؤں کے ساتھ کیمیاوی کھاد کے موثر استعمال، بارش کے پانی کی ذخیرہ کاری، قطرہ قطرہ ٹپکنے والی آبپاشی کے ذریعہ پانی کے زیادہ سے زیادہ استعمال، چھڑکاؤوالی آبپاشی ، شمسی پمپ اور لیزر کے ذریعہ زمین کی سطح کو ہموار کرنے جیسے طریقوں کو فروغ دیا گیا۔‘‘   تربیتی اجلاس میں شرکت کرنے والے ۶۲ فی صد کسانوں کے ذریعہ زرعی طریقوں میں نمایاں تبدیلی دیکھی گئی جن میں بوائی کے طریقوں میں تبدیلی شامل تھی۔  زیادہ تر کسانوں نے اس پروجیکٹ کے ذریعہ فراہم کردہ موسم اور مشاورتی خدمات کا استعمال کیا ۔ ان میں سے ۴۳ فی صد کاشت کاروں نے بوائی کی تاریخوں میں تبدیلی کو مشاورتی خدمات میں بہتر پایا۔ اس کے علاوہ ۲۷ اعشاریہ ۵  فی صد کاشت کاروں نے قدرتی حشرات کش دوا یا کھاد کے استعمال کی نشاندہی کی جس کے نتیجے میں اس پروجیکٹ کے دورانیے میں فی ٹن فصل کی پیداوار میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں اوسطاً ۵۵ فی صد کی کمی واقع ہوئی۔ یہ ۴۰۰ سے زائد کسانوں کے تربیتی اجلاس  کے اہم نتائج میں سے ایک تھا ۔

روایتی بایوماس کے استعمال سے منسلک صحت اور ماحولیات کے منفی اثرات کے پیش نظر اس منصوبے نے کسانوں کے اہل خانہ کے ذریعہ کھانا تیار کرنے کے لیے توانائی کے صاف و شفاف ایندھن کے استعمال کو فروغ دینے پر بھی کام کیا۔ اس نے کھانا پکانے کی خاطر لکڑی اور گوبر کے استعمال کو کم کرنے کے لیے بایو گیس پلانٹس متعارف کروائے اور کاشتکاروں کو بایوگیس  پلانٹوں کے قریب سبزی وغیرہ کی باغبانی کی مشق کرنے کی ترغیب دی۔ بیتُل ضلع سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کاشت کار سامنتا بائی کہتی ہیں’’ مجھے یاد ہے کہ کھانا پکانے کے لیے لکڑیاں اکٹھا کرنے کی خاطر مجھے اور میری بیٹی کو روزانہ دو گھنٹے تک چلنا پڑتا تھا۔‘‘وہ مزید کہتی ہیں ’’اس پروجیکٹ کے بایوگیس یونٹ نے میری زندگی کو بہت آسان بنا دیا ہے  اور اب مجھے اپنیی کھیتی اور کنبہ پر توجہ دینے کے لیے زیادہ وقت مل گیا ہے۔ اس کے علاوہ اب ہم لوگ اپنی باڑی سے حاصل کی جانے والی سبزیوں اور دودھ کی زیادہ پیداوار سے حاصل دودھ کی مصنوعات کا زیادہ استعمال کرپاتے ہیں۔‘‘

بی اے آئی ایف ڈیولپمنٹ ریسرچ فاونڈیشن  کے صدر اور مینیجنگ ٹرسٹی، بھارت ککاڑے کہتے ہیں کہ متعدد دیگر منصوبوں کے برعکس جو صرف زرعی فصلوں کے لچکدار نظاموں پر ہی توجہ مرکوز کرتے ہیں، اس پروجیکٹ نے ’’بہتر افزائش نسل، سائنسی بندوبست، جانوروں کے تغذیہ، خوراک اور چارے کے انتظام، آب و ہواکے نا موافق حالات کی وجہ سے مویشیوں کی اموات اور بیماری کو کم کرنے کے لیے ہر قسم کے موسمیاتی حالات میں بہتر رہائش جیسے مویشیوں کے وسائل پر مبنی پروگراموں کا مجموعہ پیش کیا۔ اس سے  گوبر پر مبنی بایوگیس ماڈل میں بھی بہتری آئی ہے۔‘‘

اس منصوبے میں مقامی طور پر ضروری اشیا کے پیش نظر کاشتکاری سے متعلق  ضروریات کی تکمیل کے لیے  اداروں کے قیام پر توجہ دی گئی ہے۔ ریڈی کہتے ہیں’’۱۳ کسٹم ہائرنگ سینٹرز کے ساتھ ساتھ مویشی پروری کے تین مراکزکے ذریعہ اس منصوبے نے کاشتکاروں کو ہر قسم کی آب و ہوا میں کام کرنے والی ٹیکنالوجی، طرز عمل اور خدمات مہیا کی ہیں۔‘‘کسٹم ہائرنگ سینٹرز خواتین کاشت کاروں کی ملکیت ہیں جن کا انتظام بھی انہیں کے ذمے ہے ۔ وہ کم قیمت پر آلو کی بوائی کے لیے خودکار مشین اور آبپاشی کے لیے آسان شمسی پمپ سسٹم جیسی مشین کرائے پر لیتی ہیں جبکہ مویشی پروری کی مشینیں مویشیوں کے انتظام کے مستحکم طریقوں کی سہولت فراہم کرتے ہیں۔ یہ مراکز خود کو برقرار رکھنے کی پروجیکٹ کی صلاحیت کا ایک اشارہ خیال کیے جاتے ہیں  جہاں نمائشوں سے متعلق سرگرمیوں  اور کاروباری پیشہ وری پر مبنی کاروباری نمونوں کے لیے شراکت میں کی جانے والی لاگت  کے طریقوں نے کاشتکاروں کو اہم مراعات فراہم کی ہیں تاکہ کسان اپنے عمل کو جاری رکھ سکیں جیسا کہ عمل درآمد کے مرحلے کے دوران تصور کیا گیا تھا۔

اس منصوبے نے معاشی، معاشرتی اور ماحولیاتی لچک کی شکل میں اپنے نتائج اور اہداف کی وضاحت کے لیے ایک لچکدار  فریم ورک کو اختیار کیا۔ کلائمیٹ اسمارٹ ولیج پروجیکٹ نے  بہتر پیداوار، منافع اور وسائل کے موثر استعمال کے ذریعہ دیہی زراعت پر مبنی معیشت کے معاشی اور ماحولیاتی لچک کو بہتر بنانے میں اہم کامیابی حاصل کی ہے۔ اس پروجیکٹ میں حصہ لینے والے کسانوں کی  مجموعی طور پر فصل اور مویشیوں کی پیداواری صلاحیت میں ۸۷ فی صد کا اضافہ دیکھا گیا اور فصلوں اور مویشیوں سے ہونے والی آمدنی میں ۸۹ فی صد کا اضافہ درج کیا گیا۔

بی اے آئی ایف ڈیولپمنٹ ریسرچ فاونڈیشن  کی چیف تھیمٹک پروگرام ایکزیکٹو راج شری جوشی کہتی ہیں’’اس پروگرام کا منفرد پہلو اس کا خواتین پر مبنی ہونا ہے۔‘‘ اس احساس کے ساتھ کہ خواتین چھوٹے پیمانے کی خاندانی کھیتی میں برابر کی شریک ہیں، خواتین کاشتکاروں کو متحرک کرنے اور انہیں فیصلہ سازی اور منصوبے کے دیگر تمام مراحل میں شامل کرنے کی کوششیں کی گئیں۔ وہ کہتی ہیں’’بڑھتی ہوئی شراکت، معلومات تک رسائی، نمائندگی، رہنمائی اور کھیتی کرنے والی خواتین کے ذریعہ کاروباری پیشہ وری کے لیے متعدد مواقع پیدا کیے گئے ۔ مختلف ٹیکنالوجیز کا انتخاب خواتین دوستی اور بیگاری کم کرنے کے اہداف پر مبنی تھا۔‘‘ ان اقدامات سے گاؤں کے۷۵ جھرمٹوں کی ۴۵۰۰خواتین کو بااختیار بنانے میں مدد ملی۔

اس منصوبے نے کپل دھارا یوجنا، پائیدار زراعت سے متعلق قومی مشن اور مہاتما گاندھی قومی دیہی روزگار گارنٹی ایکٹ جیسے  سرکاری منصوبوں  کے ساتھ  پانی میں کام کرنے والے متعدد پروگراموں کو نافذ کیا۔ ریڈی کہتے ہیں’’ اس طرح کی ہم آہنگ کوششوں سے چھوٹے اور عارضی بندوں، بوری عارضی بندوں اور تالابوں کی تعمیر اور کنوؤں کو  گہرا کرنے اور خشک موسموں میں کاشت کاروں کو پانی تک رسائی کی سہولت فراہم ہوئی۔‘‘اس کے علاوہ  پردھان منتری کسان سمان ندھی جیسی سرکاری اسکیموں کے ساتھ ہم آہنگی کے ذریعے کسان فصل بیمہ کے فوائد حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔

اس منصوبے کے فوائد صرف ان گاؤں  کے  ۷۵ جھرمٹوں تک ہی محدود نہیں ہیں جہاں اس پر عمل درآمد کیا گیا تھا بلکہ دیگر کسانوں کے ذریعہ  کچھ اس قسم کے طریقے اپنائے  جانے سے زرعی پیداوار کے ساتھ ساتھ مویشی پروری میں  لچک پیدا ہونے میں بھی مددملی ہے۔

سی سی اے ایف ایس ایشیا میں ریجنل پروگرام لیڈر پرمود اگروال کہتے ہیں’’سائنس اور اس پر عمل کرنے والوں کا فرض ہے کہ وہ معاشرتی عمل کے لیے اس کے اصولوں کو نافذ کریں۔ مختلف برادریوں کو ترقی کی راہ پر گامزن کرتے ہوئے اس دنیا  کی مدد کرنے کی کوششیں  کلائمیٹ ۔ اسمارٹ ولیج  کے نقطہ نظر  کے ستونوں میں سے ایک ہیں۔ ‘‘ وہ مزید کہتے ہیں ’’زرعی طریقوں میں تبدیلی کے ذریعہ لچک پیدا کرنے اور حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے کی کمیونٹی کی صلاحیت میں اضافے کے لیے‘‘ یہ منصوبہ اس طریقے کو استعمال کرنے کی ایک مثال ہے۔

ریڈی کہتے ہیں’’ آب و ہوا اور ٹیکنالوجی انتہائی متحرک ہیں لہٰذا اس طرح مستقل سرگرمیوں کی ضرورت ہوگی تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ منصوبے کے دوران پیش آنے والی منتقلی وقت کے ساتھ ساتھ سامنے آنے والے نئے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنی رفتار برقرار رکھیں۔‘‘

پارومیتا پین رینو میں واقع یونیورسٹی آف نیواڈا میں گلوبل میڈیا اسٹڈیز کی معاون پروفیسر ہیں۔



تبصرہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے