امریکہ نے کس طرح ٹیگورکی عزت افزائی کی

ایک بھارتی اسکالر ۱۹۶۱ءمیں امریکہ میں ٹیگورکے یوم پیدائش کی صد سالہ تقریبات کے پرجوش جشن اوران کی یادگاروں کے حصول کی خاطر کی گئی تحقیق کو یاد کررہے ہیں۔

تحریر:سُجیت مکھرجی

May 1970

امریکہ نے کس طرح ٹیگورکی عزت افزائی کی

رابندر ناتھ ٹیگور:تصویر بشکریہ لائبریری آف کانگریس

امریکہ میں گاندھی جی کی حالیہ صد سالہ تقریبات ٹیگور کے اعزاز میں دی گئی اسی طرح کی تقریبات کو ذہن میں لاتی ہے۔

۱۹۶۱ء میں امریکہ میں ہر کوئی رابندر ناتھ ٹیگور سے واقف تھا ۔ان میں امریکہ میں الگ الگ زمانے سے رہنے والے اور  مختلف عہدوں پرکام کرنےوالے ہند نژادامریکی بھی شامل  تھے۔ امریکہ بھر میں بھارتی سائنسدانوں، ڈاکٹروں،انجینئروں، نرسوں، رقاصوں، یوگ اور ہائبرڈ چاول کے ماہروں یعنی سب کوشاعر ٹیگور کے بارے میں سب کچھ جاننے اور ان کے بارے میں سب کو بتانے کاجنون سوارتھا۔ عدم تعاون کی تحریک اور گول میز کانفرنس کے دنوں کے بعدسے ہی ٹیگور صد سالہ تقریبات بیرون ملک بھارتیوں کے لیےسب سے بڑی مرکزی قوت رہی ہے۔

روایتی طورپرشاہی طرز حکومت مخالف امریکہ نے بھارتی معاملات پرہمیشہ نرمی سے توجہ  دی ہےجواس سے بھی زیادہ متنازع رہے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ ۱۹۶۱ء میں امریکہ میں ٹیگورسوسائٹیزکی تعداد کم از کم اتنی ہی رہی ہوں گی جتنی کہ بھارت میں۔  جیسے جیسے ٹیگورکا سوواں یوم پیدائش قریب آتا گیا،  تقریبات منانے کا جذبہ بھی پروان چڑھتاگیا۔ اس میں اسی طرح کا جوش وجنون دیکھا گیا جس طرح کا امریکی صدرکےانتخابات سے پہلے کے آخری سو دنوں میں ہوتا ہے۔ حالت یہ تھی کہ ہر ٹیگورسوسائٹی بڑی اوربہترجشن کی منصوبہ بندی کے لیے ایک دوسرے سے مقابلہ کرتی نظرآئی۔

امریکہ نے بھی یقینی طورپراسی طرح کا ردعمل ظاہر کیا۔ درحقیقت امریکی تقریبات شاید وہاں رہ رہے بھارتیوں کی معاونت اورحوصلہ افزائی کے بغیر بھی اتنی ہی پرجوش ہوتیں۔ امریکہ میں ایسا کوئی بڑا یونیورسٹی کیمپس نہیں تھا اورنہ ہی عالمی سوچ رکھنےوالی ایسی کوئی ادبی تنظیم تھی، نہ فن و ثقافت کا اس طرح کا کوئی مرکز تھا اورنہ ہی کوئی ایسا شہرتھا جہاں ٹیگورنے ایک باربھی دورہ کیا ہو اورجس  نےاس موقع کو کسی نہ کسی شکل میں اہمیت نہ دی ہو۔ لیکچرس ،اداریوں اور خصوصی نشریات سے زیادہ تقریبات کی دلچسپ ترین خصوصیت ٹیگور یادگاروں کا سلسلہ تھاجو مختصرطورپرہی صحیح لیکن گمنامی کی دنیاسے نکلنےمیں کامیاب رہا۔ فلاڈیلفیا نے ٹیگورکولکھا گیا اسٹرگ مُورکاخط دریافت کیا۔ شکاگومیں ٹیگورکی پہلی امریکی اشاعت کے گیلی پروف دیکھے جا سکتے تھے یعنی دسمبر ۱۹۱۲ءکے نظموں کے شمارے میں شائع ہونے والی ان کی چھ نظمیں دیکھی جا سکتی تھیں۔ کلیولینڈ پبلک لائبریری ایجوکیشن اینڈ لیزرکی ایک کاپی منظرعام پرلےآئی۔ یہ ایک  ایسی جلدتھی جوشاید ہی دیکھی جاتی ہوگی اوربعض اوقات تویہ ٹیگور کتابیات میں بھی نظر نہیں آتی۔ امریکہ کے دیگرعلاقوں میں بھی ایسی بے شمار مثالیں موجود ہوں گی جن سے یہ ظاہرہوتا ہے کہ ٹیگورکو وہاں کتنی اچھی طرح یاد کیا گیا تھا۔ نیویارک شہر ہمیشہ کی طرح ایک قدم بہتر ثابت ہوا۔ اس نے ایک دن کے لیے’ ٹائمس اسکوائر‘کو’ٹیگوراسکوائر‘کے نام سےمنسوب کردیا۔ اگر یہ صرف ایک رسمی اشارہ تھا توتھیٹرجانے والوں کے لیے یہ کوئی تصنع کا معاملہ نہیں تھا جو آف براڈوے ہاؤس(نیو یارک سٹی میں واقع ایک پیشہ ور تھیٹرجس میں لوگوں کے بیٹھنے کی گنجائش ۱۰۰ سے لے کر ۴۹۹ کے درمیان ہوتی ہے) جاتے رہے جہاں رابندر ناتھ ٹیگور کے ’’دی کنگ آف دی ڈارک چیمبر‘‘ کو صرف چار ہفتے دکھائے جانے کا منصوبہ تھا لیکن جوبالآخر چار ماہ تک دکھایا جاتا  رہا۔

میں اگست ۱۹۶۰ء سے فلاڈیلفیا میں تھا اورمجھے یاد ہے کہ وہاں ٹیگور سوسائٹی کے ذریعہ ساتھی بھارتیوں کا ایک تیار شدہ حلقہ ملنا کتنا اطمینان بخش تھا۔ اگرچہ یہ کسی بھی طرح سے یونیورسٹی آف پین سلوانیا کا کوئی ضمیمہ نہیں تھا لیکن ارکان کی اکثریت یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے والے یا کام کرنے والے بھارتیوں کی تھی جب کہ سوسائٹی ساؤتھ ایشیا ریجنل اسٹڈیز ڈیپارٹمنٹ کا فطری ورائی ادراج   بن چکی تھی جس نے نہ صرف پروفیسر ڈبلیو نارمن براؤن کی شکل میں سوسائٹی کے لیے مستقل صدر فراہم کیا بلکہ دیگر سہولتیں بھی فراہم کیں۔ مثال کے طور پر ڈیپارٹمنٹل لائبریری سوسائٹی کے لیےایک قسم کے مرکزِ تشہیرکے طور پرکام کیا کرتی تھی۔ شعبہ میں غیربھارتی طلبہ نے میٹنگوں کے لیےایک قابل اعتماد کورم  تشکیل دیا۔ یہاں کا دورہ کرنے والوں کے لیے مستقل طور پرخطابات کے پروگرام ہوتے تھے جس میں ڈاکٹرجان متھائی سے لے کر راجہ راؤ تک کو سنا جاتا تھا۔

میرے وہاں  پہنچنے کے  بعد میں نے دیکھاکہ ہر کوئی سوسائٹی کے زیر اہتمام ایک شام کی تفریح کے لیے ٹکٹ فروخت کررہا تھا (بہت سے لوگ انہیں خرید رہے تھے)۔ یونیورسٹی کا اِروِن  آڈیٹوریم اس تقریب کے لیے مکمل طور پربھرا ہوا تھا جہاں نئی دہلی سے بھی زیادہ نیو یارک میں معروف رقاصہ بھاسکر نے رقص کے پروگرام پیش کیے جن میں سے توبعض انہوں نے تنہا پیش کیے اور کئی دودیگر لڑکیوں کے ساتھ پیش کیے ۔ سوسائٹی کی طرف سے مئی ۱۹۶۱ء میں حقیقی جشن منانے کی خاطر  کافی رقم اکٹھا کی گئی تھی جس کے لیے ہم نے مِرنالنی سارا بھائی سے ایک یادگارپروگرام کی گذارش کی تھی۔ اس میں ڈاکٹراسٹیلا کریمرِش کے ذریعہ ٹیگوربطور مصور موضوع پر ایک گفتگو (رنگین سلائڈس  کے ساتھ) اور پروفیسر ٹی ڈبلیو کلارک (اس زمانے میں پین میں لندن سے وزیٹنگ پروفیسر) کا ایک پرجوش خطاب کا بھی پروگرام تھا۔ انہوں نے جب ٹیگور کی بنگالی نظم کا آغاز کیا اور یہ کہہ کر اسے ختم کیا کہ ٹیگورکو پڑھنے کے لیے دنیا کے ہر فرد کو بنگالی زبان سیکھنی چاہئے تو وہاں موجود بھارتی آبادی جھوم اٹھی۔

امریکہ میں ٹیگور صد سالہ جشن میں مجھے جو ذمہ داری ملی وہ محنت طلب تھی۔  مجھے  ۱۹۱۲ء سے  ۱۹۳۰ء کے درمیان ٹیگور کے امریکہ کے پانچ دوروں کے بارے میں حقائق اوراعدادوشمارکواکٹھا کرنا تھا لیکن مجھے سب سے زیادہ لطف اس کام کوانجام دیتے ہوئے اتفاقیہ طور پر ملنے والی خوشیوں میں آیا۔ مثال کے طور پراس موضوع کا انتخاب میرے سپروائزر نے عملی طور پر میرے لیے کر دیا تھا ۔ جو لوگ امریکہ میں اسکول سے فارغ ہوئے ہیں انہیں معلوم ہوگا کہ یہ کتنی بڑی نعمت تھی کیونکہ مضمون اور نگراں اور تحقیق کرنے والے طالب علم کا خوشگوار امتزاج عام طورپر طالب علم کے محدود وسائل اور وقت کا حکمت عملی کے ساتھ استعمال کا  نتیجہ ہوتا ہے۔ میں نےخودکو اس وقت حوصلہ افزا پایا جب میرے پروفیسرنے بتایا کہ اسی یونیورسٹی میں انڈر گریجویٹ طالب علم کی حیثیت سے وہ ’’گیتانجلی‘‘ کی ایک کاپی ہمیشہ اپنے ساتھ رکھا کرتے تھے۔ لیکن ایسا کیا ہوا کہ اس کے مصنف کولوگوں نے اتنی جلدی فراموش کردیا؟ مجھے اس کی وضاحت میں  دس یابارہ مہینے لگ گئے اور آخرکارمیری وضاحت نے کچھ عرصے کے لیے انہیں قائل کر لیا ۔

مثال کے طور پر مواد کی تلاش نے مجھے شکاگو کے ساتھ بہت سارے دیگر مقامات پر جانے کا موقع فراہم کیا۔ میرے ایک دوست کے دوست کے ذریعے میں نے سنا تھا کہ وہاں ایک تاریخ کے پروفیسراسی طرح کے موضوع میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ میں نے انہیں لکھا اور مجھے ان سے وہ جواب موصول ہوا جو میرے خیال میں ایک مصروف استاد کی طرف سے غیر متوقع طور پرایک دوستانہ ردعمل تھا۔ مجھے اس وقت معلوم نہیں تھا کہ میں نے اتفاقیہ طور پرکتنا بڑا کام انجام دے دیا ہے۔ جب میں شکاگو گیا تو وہ صاحب نہ صرف مجھے اپنے گھر لے گئے اور رات کا کھانا کھلایا  بلکہ ٹیگور کے ۱۷۔۱۹۱۶ کے امریکہ کے دورے سے متعلق پریس کلپنگ کی ایک مائیکرو فلم بھی عنایت کر دی۔ مجھے کبھی یہ خیال نہ آتا کہ میں ان  سے مائیکرو فلم مانگوں اگر چہ یہ مجھے معلوم بھی ہوتا کہ یہ ان کے پاس ہے۔ انہوں نے مجھے ایسا  محسوس کرایا جیسے وہ مجھے ایک ایسی کتاب دے رہے ہیں جو ان کے کسی کام کی نہیں ہے۔

یہ وہی پروفیسر تھے جنہوں نے مجھے ہارورڈ یونیورسٹی کے ان کاغذات کی حالیہ خریداری کے بارے میں بتایا جس میں ٹیگور پر مواد موجود تھا۔ یہاں ایک بار پھر ایک ایسی چیز مجھے مل گئی جو مجھے یونیورسٹی آف پین سلوانیا لائبریری کے  حوالہ سیکشن میں کام کرنے والی محنتی خواتین میں سے کوئی بھی خاتون دے سکتی تھی۔ عام طور پر ان خواتین نے یہ تاثر دیا کہ وہ سب کچھ جانتی ہیں یا کم از کم یہ جانتی ہیں کہ تمام چیزیں کہاں تلاش کرنی ہیں۔ میں نے انہیں کبھی بھی کسی کام کے لیے ،حتیٰ کہ کسی غیر معمولی کام کے لیےبھی نا کہتے ہوئے نہیں سنا ۔ میں نے ایک بار ٹیلی فون پر گفتگو سنی جس میں فون کرنے والا جولائی ۱۸۴۶ء  کی کسی تاریخ کی صبح واشنگٹن کے موسم کا احوال جاننا چاہتا تھا۔ ریفرنس لائبریرین نے کوئی جواب نہیں دیا۔  وہ یہ کہہ سکتی تھیں’’کیوں نہ آپ موسم کی خبر دینے والے ویلی کِنّن سے اس بارے میں پوچھیں؟‘‘ اس کے بجائے انہوں نے ان سے کہا کہ وہ تقریباً آدھے گھنٹے میں دوبارہ فون کریں ۔اس وقت تک شاید وہ اس بارے میں کچھ معلومات حاصل کر لیں گی۔

لائبریریوں کے اندر نایاب کتابوں اور مخطوطات کا کمرہ وہ واحد علاقہ تھا جہاں آپ کو کچھ مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا۔ مثال کے طور پر شکاگو یونیورسٹی کی ہارپر میموریل لائبریری کا یہ شعبہ اصل میں کچھ زیادہ  ہی ناقابل تسخیر ثابت ہوا۔ تاریخ کے مذکورہ پروفیسر کے میرے لیے کہے ہوئے الفاظ سے ہی مجھے ہیرئیٹ مونرو کلیکشن میں کچھ اصل خطوط دیکھنے کا موقع مل گیا۔ چنانچہ جب میں ہارورڈ گیا تو میں نے اپنے آپ کو تعارفی خطوط اوراس طرح کے دیگر ہتھیاروں سے لیس کر لیا تھا تاکہ اگر مجھے ان ذرائع تک پہنچنے میں کوئی پریشانی ہوتو میں ان کا استعمال کرسکوں۔ مجھے بہت خوشی ہوئی کہ مجھے امریکہ میں ٹیگور کے خطوط کے شاید سب سے اہم مجموعے تک رسائی حاصل کرنے کے لیے ایک رجسٹر میں صرف اپنا نام لکھنا پڑا۔ میں نے جلد بازی میں اس پر بھی توجہ نہیں دی کہ کسی کے اندر داخل ہونے کے بعد دروازہ خود بند ہو جاتا ہے  اور اس سے نکلنا تب تک ممکن نہیں ہوتا جب تک کہ وہاں میز پر موجود لڑکی تعاون نہ کرے جو دروازہ کھولنے کے لیے ایک خفیہ طریقہ کار استعمال کرتی تھی۔

نیویارک پبلک لائبریری میں پیچھے کی جانب بنے ہوئے کتابوں کے کمرے میں خودسے کھلنے اوربندہونے والے دروازے کا نظام نہیں تھا، لہذا یہاں اندر آنے کے لیے ایک پرانے لوہے کے دروازے پر درخواست کرنا پڑتی تھی ۔ اپنی اصلیت ثابت کر دینے کے بعد آپ کو اندر داخل ہونے کی اجازت مل جاتی ۔ اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ وہاں سگریٹ پینے کے لیے عمارت کے باہر جانا پڑتا   ، مجھے یقین ہے کہ میرے وہاں دودن کام کرنے کے بعد انہیں ان دروازوں کے آسانی سے کھلنے کے لیے اس میں تیل ڈالنا پڑا ہوگا۔

اس آخری نقطہ نظر سے یعنی تمباکو نوشی کرنے والوں کے لیے پین سلوانیا کی نئی لائبریری مثالی ہے۔ یہ نہ صرف یہ دعویٰ کرتی ہےکہ  یہ آگ لگنے سے محفوظ ہے، بلکہ آپ کو عمارت کے اندرعملی طور پرہرجگہ سگریٹ نوشی کی اجازت ہے۔ اس کے علاوہ یہ مکمل طور پرایئر کنڈیشنڈ بھی ہے۔ اس طرح فلاڈیلفیا میں مرطوب موسم گرما اب گریجویٹ طلبہ کے لیے کوئی مسئلہ نہیں رہاہے۔ تاہم پرانے وقت کے بعض طلبہ گوتھِک فن تعمیراورآٹھویں صدی سے گیارہویں صدی عیسوی کے درمیان یوروپی ساحِلوں پرحملہ کرنے والے بحری ڈاکوؤں کی طرح ایک مرکزی ہیٹنگ پلانٹ  سے لیس پرانی لائبریری کو دیکھنے سے محروم رہ گئے۔ ریڈنگ روم میں سونا یا جھپکی لینا تو ناممکن تھا کیونکہ اس میں لگے پائپ جا بہ جا پستول کی گولیوں کی طرح شورمچاتے تھے۔ اصل میں دیکھا جائے تو یہ جگہ نسلوں کے مطالعے کے لیے بہتر ہے جہاںوظیفہ کا بھی انتظام ہے۔ اس جگہ کا ماحول اتنا خوشگوار ہے کہ کوئی بھی یہاں سنجیدگی سے مطالعہ کر سکتا ہے۔

زیادہ ترمعلومات جن کی مجھے تلاش تھی وہ ۱۹۱۲ء کے روزناموں میں ملنی تھیں۔ نیویارک ٹائمس کے تعلق سے ہمیں کوئی مسئلہ نہیں تھا کیونکہ اس کا ایک رواں انڈیکس تھا اور ساتھ ہی یہ مائیکرو فلم پر بھی دستیاب تھا۔ مشرقی ساحل (ایسٹ کوسٹ) کے دیگر اخبارات نیویارک پبلک لائبریری سے ملحق عمارت میں دستیاب تھے۔ یہاں بیٹھنے کی بجائے کھڑے ہو کرفائلوں کو پڑھنا آسان تھا۔ یہاں کوئی بھی نہ صرف پرانے اخبارات دیکھ سکتا تھا بلکہ ناقابل تنسیخ ماضی کے صفحات بھی پلٹ سکتا تھا۔ یہاں میں نے یورپ میں جنگ کے بارے میں پڑھا جسے امریکیوں نے اس وقت انجام دیا تھا ۔ یہ تقریباً ویسا ہی تھا جیسا ہم لوگ ویتنام کے بارے میں بھارتی اخبارات میں پڑھتے ہیں یعنی یہ ایک ایسا پریشان کن مسئلہ ہے جو کچھ فاصلے سے قابل رحم معلوم پڑتا ہے۔ وہاں اشتہارات ہمیشہ دلچسپ ہوا کرتے تھے۔ یقینی طورپر یہ کہا جا سکتا ہے کہ کوئی بھی چیز عصرحاضر کی اس طرح عکاسی نہیں کرسکتی جیسا کہ اشتہارات کرتے ہیں۔ پھر ہمیں لوگوں اور اس زمانے کے واقعات کے بارے میں رقت آمیز سرخیاں دیکھنے کو ملیں جنہیں کبھی دوبارہ چھپنے کا موقع نہیں ملا۔ میں خبروں کی اس عارضی نوعیت پر حیران بھی ہوا۔

ٹیگور کا سفر انہیں وسط مغرب کے ساتھ مغربی ساحل تک لےگیا۔ کچھ خبروں کو بالکل صحیح طور پر تلاش کرنے کے لیے میں نے سان فرانسسکو پبلک لائبریری کو خط لکھ کر اپنی کچھ قیاس آرائیوں کی تصدیق کے لیے کہا۔ کچھ ہی دنوں میں مجھے ان خبروں کی تصاویر موصول ہوئیں جن کے تعلق سے میں نے گذارش کی تھی۔ اس سے حوصلہ پا کر میں نے دیگر دور دراز کے اخبارات کو لکھا اور اکثر وہی پایا جو میں چاہتا تھا۔ اگر مجھے اس سے پہلے تحقیق کی اس تدبیر کاعلم ہوتا تو شاید میں میلوں لمبے مائیکرو فلم اور گزوں میں پھیلے دھندلے نیوز پرنٹ کو گھنٹوں دیکھنے میں ہونے والے نقصان سے اپنی آنکھوں کو بچا سکتا تھا۔ تاہم نیبراسکا کے اوماہا کی پبلک لائبریری نے ہمارے ساتھ  سب سے اچھا سلوک کیا۔ ٹیگور نے ایک بار اوماہا میں لیکچر دیا تھا لیکن ریفرنس لائبریرین نے یہ کہنے کے لیے واپس لکھا کہ وہ اس موقع کی کوئی اخباری رپورٹ تلاش کرنے سے قاصر ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ حال ہی میں سبکدوش ہوئے عملے کے ایک رکن نے اس لیکچر میں شرکت کی تھی اور جو بھی تفصیلات انہیں یاد ہوں وہ مجھے بھیجیں گی۔ انہوں نے ایسا ہی کیا۔ انہوں نے ۴۰ سال سے بھی زیادہ عرصہ پہلے منعقد تقریب کو خوش دلی سے یاد کرتے ہوئے مجھے کانپتے ہاتھوں سے خط لکھا جو قابل فہم تھا۔

ان تمام سرگرمیوں کے دوران میرا صدر دفتر فلاڈیلفیا میں رہا اور یہاں انتہائی غیر متوقع جگہوں پر ٹیگور سے میرا سامنا ہوا ۔ سیئرز روبک اسٹور پرایک چیک کےعوض نقد لیتے ہوئے مجھے کیشیئر کو بتانا پڑا کہ میرا تعلق بھارت سے ہے۔ اس پر انہوں مجھ سے پوچھا کہ کیا میں نے ٹیگور کے بارے میں سنا ہے؟ اور پھر انہوں نے ’’گیتانجلی‘‘ کی چند سطروں کا ذکر کیا ۔ اس کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ جب وہ اسکول میں تھیں تب انہوں نے اسے پڑھا تھا۔ ایک بار میں نے موسم گرما میں فلاڈیلفیا ایوننگ بلیٹن میں ملازمت حاصل کرنے کی کوشش کی۔ میرا انٹرویو لینے والے صاحب نے مجھے بتایا کہ وہ مجھے ملازمت نہیں دے سکتے۔ ایک زیر تربیت اخبار نویس کی حیثیت سے ان کی پہلی اہم ذمہ داری ۱۹۳۰ء میں ٹیگور کے ساتھ پریس کانفرنس میں شرکت کرنا تھی۔ لہذا اس ملازمت کے لیے مجھے انکار کرنے میں انہیں اچھا نہیں لگا اور پھرہم نے ٹیگور پر ایک لمبی بات چیت کی۔ ایک بارمیں نے ایک سیکنڈ ہینڈ بک کی دکان کی ایک کھڑکی میں اس نایاب جلد ’’سِکس پورٹریٹس آف رابندر ناتھ ٹیگور‘‘کی ایک کاپی دیکھی جسے سر ولیم روتھین اسٹین نے تیارکیا تھا اور میکس بیئربوم نے اس کا تعارف لکھا تھا ۔ جب میں نے اس کی قیمت پوچھی تو معلوم ہوا کہ یہ میری استطاعت سے باہر ہے۔ میں یہ وعدہ کرکے آگیا کہ میں اس کتاب کو لینے کے لیے واپس آؤں گا ۔لیکن مجھ سے تاخیر ہوگئی اور  جب میں دوبارہ دکان پر پہنچا تو وہ کتاب فروخت ہو چکی تھی ۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ان دنوں کوئی اوربھی ٹیگور کو پڑھنا چاہ رہا تھا اوروہ مجھ سے بازی مارگیا تھا۔

اگر یہ سب کچھ ٹیگور کے لیے فلاڈیلفیا کے احترام کے تعلق سے ایک مبالغہ آمیز تصور دیتا ہے تو مجھے اس سلسلے میں اپنے انتہائی سنجیدہ تجربے کا ذکر کرنا چاہئے۔ ۱۹۳۱ء میں ٹیگور کی ۷۱ ویں سالگرہ کے موقع پرانہیں پیش کی گئی ’’دی گولڈن بک آف ٹیگور‘‘کی ایک کاپی کی تلاش میں اسے میں نے تھیوڈور ڈریزر کی کتابوں کے ذاتی مجموعے کے ساتھ پین لائبریری کی فہرست میں شامل پایا جسے لائبریری نے  ناول نگار تھیوڈورسے حاصل کیا تھا۔ یہ مجموعہ پانچویں منزل پر پیچھے کی جانب واقع کتابوں کے کمرے میں   رکھا گیا ہے۔ اور جب آپ وہاں اپنی چاہت کی تلاش میں بیٹھتے ہیں تو ڈریزرکے کانسے سے تیارمجمسے کی جھلک آپ پر پڑتی ہے ۔ میں جانتا تھا کہ ڈریزر نے ٹیگور کے اعزاز میں لکھی جانے والی اس کتاب میں کچھ تعاون کیا تھا لیکن جو میں نہیں جانتا تھا وہ یہ تھا کہ ڈریزر نے کبھی اس کتاب کو کھول کردیکھا بھی نہیں تھا۔ کتاب کے ناشر کی پرچی محدود ایڈیشن کا نمبربتارہی تھی اوراس بات کا ذکر کر رہی تھی کہ یہ ایک توصیفی کاپی تھی جو اب تک وہاں موجود تھی ۔ اس کتاب کےصفحات الگ بھی نہیں کیےگئے تھے بلکہ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہی تھے ۔ ٹیگور کی صد سالہ امریکی تقریبات میں میرا خاطر خواہ حصہ اس کتاب کو ۳۰سال بعد منظر عام پر لانا اوررسمی طورپراس کا اجرا کرناتھا۔

۱۹۶۱ءکے مقابلے میں موجودہ وقت کافی ترقی کر چکا ہے اور امریکہ میں ٹیگورسینٹنری بے شمار دیگرعوامی تقریبات کی طرح عوامی یاد کا حصہ بن گئی ہے جوجا بہ جا اس ملک کو ساحل سے ساحل تک متحرک کرتی رہتی ہے۔ اس مضمون کے مزید طویل ہونے سے پہلے مجھے وہ سوال پیش کرنا ہوگا جو ہمیشہ گذشتہ واقعات کے جائزے سے پیدا ہوتا ہے اور وہ سوال یہ ہے کہ کتنی تقریبات امریکہ میں ٹیگور کے حقیقی اور پائیدار احترام کا اظہار کرتی ہیں؟ مجھے اس سوال کے ساتھ اپنی بات ختم کرنی چاہیے کیونکہ یہ واقعی میری اپنی تشکیل نہیں ہے اور نہ ہی میں اس کا جواب دے سکتا ہوں۔ جو لوگ جواب چاہتے ہیں انہیں اسے دوسروں کے ذریعہ نہیں بلکہ خود تلاش کرنا چاہیے۔ میں صرف اتنا کہہ سکتا ہوں کہ جو لوگ ہم سے پہلے گذر گئے ، ان کی زندگیوں کا جشن منانے میں ہم اپنی زندگیوں کی تجدید کرتے ہیں۔ ۱۹۶۱ء میں ٹیگور کو جو خراج تحسین پیش کیا گیا تھا وہی مہاتما گاندھی کی صد سالہ تقریبات کے موقع پر انہیں پیش کیا گیا۔

 

 اس مضمون کی اشاعت پہلے پہل مئی ۱۹۷۰ءمیں ہوئی۔



تبصرہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے