مختلف ثقافتوں کی زبان سیکھنا

امریکی ہائی اسکول کے طلبہ ہندی زبان سیکھتے ہیں اور وسیع تبادلہ پروگرام کے ذریعہ بھارتی ثقافت کا تجربہ بھی کرتے ہیں۔

کیری لووینتھل میسی

August 2022

مختلف ثقافتوں کی زبان سیکھنا

 

این ایس ایل آئی۔وائی کے شرکا کی حیثیت سے امریکہ سے زبان سیکھنے کے لیے بھارت آئی ایلِس میک گنیز مدھیہ پردیش کے شہر اندور میں اپنے میزبان کنبے کے ساتھ دیوالی مناتے ہوئے۔

کسی بھی زبان کو سیکھنے کا طریقہ یہ ہے کہ آپ خود کو مکمل طور پر اس میں ڈبولیں یا جہاں تک ممکن ہو اس میں ڈوب جائیں۔ ہندی زبان سیکھنے میں دلچسپی رکھنے والے امریکی ہائی اسکول کے طلبہ کے لیےنیشنل سیکوریٹی لینگویج اِنی شی ایٹو فار یوتھ (این ایس ایل آئی۔وائی)یہی مواقع فراہم کرتا ہے۔

امریکی نوجوانوں میں اہم زبانوں کو سیکھنے کا رجحان پیدا کرنے کے عمل کو فروغ دینے کی غرض سے ۲۰۰۶ ءمیں این ایس ایل آئی۔ وائی قائم کیا گیا تھا۔ امیریکن کونسلس فار انٹرنیشنل ایجوکیشن کے اشتراک سے امریکی محکمہ خارجہ ۸ زبانوں :عربی، چینی( مینڈیرن )، ہندی، انڈونیشیائی، کوریائی، فارسی( تاجکی)، روسی اور ترکی سیکھنے کے لیے ہائی اسکول کے طلبہ کو خصوصیت کی بنیاد پر تعلیمی وظائف عطا کرتا ہے ۔ طلبہ بھارت سمیت پوری دنیا کے مختلف مقامات میں جہاں یہ ۸ این ایس ایل آئی ۔وائی زبانیں بولی جاتی ہیں ،زبان سیکھنے کے وسیع پروگرام میں شامل ہو سکتے ہیں۔امریکی طلبہ ان پروگراموں کو چن سکتے ہیں جو پورے تعلیمی سال تک جاری رہتے ہیں یا موسم گرما کے دوران آخری ۶سے ۸ ہفتے تک ہی جن کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ یہ دونوں پروگرام منفرد تجربہ فراہم کرتے ہیں۔

اس برس ۷ امریکی  ہائی اسکولوں کے طلبہ نے نئی دہلی میں  ۲۰۲۲ کا این ایس ایل آئی ۔ وائی  سمر پروگرام مکمل کیا۔ پروگرام کے دوران طلبہ کو ہندی زبان کے بارے میں ۱۲۰ گھنٹے کے قریب پڑھایا گیا۔ طلبہ نے بھارت میں اپنے قیام کے دوران رکشا بندھن منایا اور یومِ آزادی  کی تقریب  میں شرکت کی۔  اس سمر پروگرام کے اختتام پر امریکی طلبہ نے ہندی زبان میں اپنی مہارت کا ثبوت  بالی ووڈ  نغمات  گا کر اور ان پر رقص کرکے دیا۔ اس کے گواہ ان کے اساتذہ اور وہ خانوادے بنے جہاں انہوں نے بھارت دورے کے دوران قیام کیا تھا۔

اے ایف ایس انڈیا میں میزبانی سے متعلق شعبے کے نائب روشن ساجن کہتے ہیں ”ہندی پروگرام سمیت این ایس ایل آئی۔ وائی پروگرام کو منفرد بنانے والی چیز زبان سکھانے کا اس کا دلچسپ اور انوکھا طریقہ ہے۔ موسم گرما اور تعلیمی سال دونوں ہی قسم کے پروگرام کے شرکا ءکے زبان سیکھنے کا عمل وسیع، عمیق اور تجرباتی ہوتا ہے جس میں ایک منظم نصاب اورمنصوبہ بند ثقافتی دورے شامل ہیں اور جہاں شرکا ءزبان کی مہارت کی مشق کرتے ہیں۔ “ اے ایف ایس انڈیا، غیر منافع بخش تنظیم اے ایف ایس انٹر کلچرل پروگرامس کا حصہ ہے جو ۵۰ سے بھی زیادہ ملکوں میں سیکھنے کے بین ثقافتی مواقع فراہم کرتا ہے۔ یہ انڈیا میں این ایس ایل آئی۔ وائی کی شریک تنظیم بھی ہے۔

زبان سے متعلق پڑھائی کی خاطر تعلیمی منصوبے کے تحت ان دوروں میں تعلیمی سال کے پروگرام کے شرکا ءکا بنارس کا دورہ بھی شامل ہے۔

اے ایف ایس۔ یو ایس اے میں این ایس ایل آئی ۔ وائی ماہر کرسٹل لے گوف کہتی ہیں ”اپنے دوروں سے پہلے طلبہ اپنے میزبان ملک سے متعلق اپنی دلچسپی کے ایک موضوع کا انتخاب کرتے ہیں۔ اس کے بعد وہ مقامی لوگوں سے انٹرویو کرتے ہیں اور اپنے دورے میں فیلڈ ورک کا اہتمام کرتے ہیں۔اس کے موضوعات میں کتھک سے لے کر دریائے گنگا پر ماحولیاتی سرگرمی اور گھاٹ اور مندر سے لے کر بنارس میں سر راہ ملنے والے کھانے تک دستیاب ہیں۔وہ کہتی ہیں ”شرکا ءاپنی تمام چیزیں کلاس میں ہندی میں پیش کرتے ہیں اور ایک مضمون کے لکھنے کے ساتھ اس پروگرام کا اختتام ہوتا ہے۔‘‘

 

این ایس ایل آئی۔وائی ہندی پروگرام کے شرکا کسی زبان کو پڑھنے، اسے لکھنے، اسے بولنے اور اسے سمجھنے کی مہارت سیکھتے ہیں۔ ایسا وہ ہوشیاری کے ساتھ تخلیق کی گئی سرگرمی کے ذریعہ کرتے ہیں۔ (تصویر بشکریہ این ایس ایل آئی۔وائی)

۲۰۱۸ء میں بھارت  میں انڈیا میں سال بھر کے پروگرام والے طلبہ نے ایک تصدیق شدہ گرو کی سرپرستی میں ۴مہینے کا ایک یوگ کورس بھی کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے بھارتی رقص ، موسیقی اور فنون لطیفہ کے کلاسیز میں بھی شرکت کی۔

مگردونوں ہی قسم کے کلاسیزکے شرکا ءیعنی سال بھروالے پروگرام اورموسم گرما کے پروگرام والے شرکا ءکے لیے سماجی خدمت لازمی ہے۔

لے گوف بتاتی ہیں ”گذشتہ کچھ برسوں سے شرکا ءنے غریب بچوں کو انگریزی سکھانے، کسی بھی عمر اور کسی بھی طبقے کے لوگوں کے لیے مفت میں آنکھوں کی جانچ کرنے والے اور چشمہ فراہم کرنے والے ایک ویژن کیمپ میں کام کرنے اورطالبات کے لیے بیت الخلا کی سہولت فراہم کرنے کے لیے اپنی رضاکارانہ خدمات پیش کی ہیں۔ انہوں نے دیگر متعدد سماجی خدمات کے تحت پودے بھی لگائے ، بزرگ شہریوں کے توسط سے لوگوں سے بات کی اور مدد بھی کی، اور اندور کینسر فاﺅنڈیشن میں وقت گزارا۔ شرکا ءنے ہندوستانی معاشرے کو متاثر کرنے والے بہت سارے مسائل کو سمجھنے کے لیے اپنی ہندی زبان کی مہارت کا استعما ل کیااور اپنی میزبان برادری کو صلہ دینے کے لیے اس موقع کی اہمیت کو سمجھا ۔‘‘

زبان کا حصول اور ثقافتی وسعت کا عمل ان کے گھر پر بھی جاری رہتا ہے جن دنوں شرکاءبھارت میں ہوتے ہیں۔

ساجن کہتے ہیں ”شرکا ءاپنے میزبان کنبوں کے ساتھ زبان کی مہارت کو فروغ تو دیتے ہی ہیں،بھارتی خاندانی نظام، اقدار اور روایتوں کے رابطے میں بھی آتے ہیں۔“

موسم گرما کے شرکا ءتمام وقت اپنے میزبان کنبوں کے ساتھ ہوتے ہیں جب کہ تعلیمی سال والے پروگرام کے طلبہ سال کے پہلے نصف حصے کو میزبان کنبوں کے ساتھ گزارتے ہیں اور پھر اس کے بعد ہفتے کے دوران اپنے میزبان اسکول میں بورڈنگ کی خدمات کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ساجن کہتے ہیں کہ بورڈنگ کا تجربہ ساتھیوں سے سیکھنے کے عمل میں وسعت بخشتا ہے ۔ اس کے ساتھ ہی اسکول میں ایک کنبے کا احساس بھی دیتا ہے۔ وہ کہتے ہیں ”شرکا ءاکثر کہا کرتے ہیں کہ جب چھوٹے درجے کے طلبہ انہیں بھیا اور دیدی کہہ کے مخاطب کرتے ہیں( جواہل ِ وطن کے یہاں بڑے طلبہ کو مخاطب کرنے کا ایک مروّجہ طریقہ ہے )تو انہیں لگتا ہے کہ ان کا بہت زیادہ خیرمقدم ہوا۔ اور اس سے وہ بہت زیادہ خوش ہوتے ہیں۔‘‘

این ایس ایل آئی ۔ وائی ہندی پروگرام ہر برس اندور اور پونہ میں امریکی شرکاءکی میزبانی کرتا ہے۔ بیک وقت قریب  ۳۰ طلبہ موسم گرما کے پروگرام میں شرکت کرتے ہیں اور ۵ طلبہ تعلیمی سال والے پروگرام میں شریک ہوتے ہیں۔ داخلے کے محکمے کے افسر زبان سیکھنے کی ترغیب،اوصاف و خصوصیات اور ثقافتی شعور کے مظاہرے کو دیکھتے ہوئے درخواستوں کا جائزہ لیتے ہیں تاکہ اس بات کویقینی بنایا جاسکے کہ درخواست دہندہ بین الاقوامی تجربے کے لیے باشعور اور بالکل تیار ہے یا نہیں۔

درخواست گزاروں کو اس بات کی بھی وضاحت کرنی ہوتی ہے کہ زبان سے متعلق ان کا مطالعہ ان کے مستقبل کے تعلیمی یا پیشہ ورانہ مقاصد سے کس طرح وابستہ ہے ۔یہ ایک ایسا خیال ہے جس کے تعلق سے این ایس ایل آئی ۔وائی منتظمین امید کرتے ہیں کہ یہ شرکاءکے بھارتی  ساتھیوں کو متاثر کرے گا۔

ساجن کہتے ہیں ”یہ پروگرام بھارتی  نوجوانوں کے لیے بہت بڑی مثال ہے جو یہ بتاتی ہے کہ تبادلے کے پروگرام کے ذریعے زبان سیکھنے کا عمل کس طرح ان کے کریئر اور شخصی ترقی کے منصوبوں کا حصہ ہو سکتا ہے ۔ہمیں امید ہے کہ این ایس ایل آئی ۔وائی بھارتی نوجوانوں کو ان زبانوں کے پروگرام اور مواقع کے بارے میں غور وفکر کرنے کی ترغیب دیتا ہے جس سے بین ثقافتی افہام و تفہیم کو فروغ ملتاہے ۔‘‘

این ایس ایل آئی۔ وائی کے سابق طلبہ پروگرام کے ختم ہونے کے بعد بھی ہندی کا مطالعہ جاری رکھتے ہیں اور اس زبان کا استعمال کرتے رہتے ہیں۔

ساجن کہتے ہیں ” ایک مثال موسم گرما کے پروگرام کے سابق طالب علم کی ہے جو اندور میں اپنے میزبان اسکول میں ماڈل یونائٹیڈ نیشنس تقریب میں شرکت کے لیے واپس آیا۔ ایک دوسری مثال این ایس ایل آئی۔ وائی کے سابق طالب علم کی ہے جو اپنے میزبان اسکول میں ایک اِنٹرن کے طور پر واپس آیا اور بینائی اور سماعت سے محروم بچوں کے لیے معلّم کی خدمات انجام دینا شروع کیں۔‘‘

جب کہ لے گوف بتاتی ہیں ” بہت سارے سابق طلبہ نے ان کالجوں میں درخواست دی ہے جہاں ہندی زبان کے پروگرام کا اہتمام ہے کیوں کہ انہوں نے اس زبان کو سیکھنے اور ثقافت کو جاننے کے لیے اب خود کو وقف کر دیا ہے۔‘‘

لے گوف کہتی ہیں کہ ایک دوسری سابق طالبہ نے تخلیقی فکر وخیال سے کام لیا اور ایک ریستوراں میں ملازمت کر لی جہاں رہ کر وہ زبان کی مشق کر سکتی تھیں۔

ساجن اصرار کرتے ہیں ” شرکا ءتبادلے کے پروگرام سے قائم زندگی بھر کی دوستی کو اور یادوں کو عزیز رکھتے ہیں۔‘‘

اس بات کی تصدیق موسم سرما کے ایک طالب علم جیکی فوسٹر بھی کرتے ہیں ۔انہوں نے بھارت میں اپنے قیام کے آخر میں اپنی ایک تحریر سے اس کی توثیق کی۔فوسٹر لکھتے ہیں ” تبادلے کے پروگرام کے دوران مجھے ہندی سیکھنے میں کافی مزہ آیا ۔میں نے زندگی سے متعلق بہت سے اسباق حاصل کیے جو میری باقی زندگی میں کام آئیں گے۔میرا میزبان کنبہ حیرت انگیز تھا اور اب تو میں انہیں میزبان کنبہ بھی خیال نہیں کرتا بلکہ اپنا ہی کنبہ سمجھتا ہوں۔‘‘

وہ مزید کہتے ہیں ”میرے کنبے اور اسکول سے باہر اس تجربے نے ایک عالمی شہری بننے میں میری مدد کی ہے ۔ میں نے ہندوستان کی حقیقی شناخت سے واقفیت حاصل کی ہے اور میں خوش ہوں کہ میں یہ دکھا سکتاہوں کہ ایک امریکی ہونے کا صحیح مطلب کیا ہوتا ہے۔ میں اس کے لیے ہمیشہ احسان مند رہوں گا۔‘‘

کیری لووینتھل میسی نیو یارک سٹی میں مقیم ایک آزاد پیشہ قلم کار ہیں۔

اس مضمون کی پہلے پہل اشاعت جنوری ۲۰۱۹ء میں عمل میں آئی تھی۔



تبصرہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے