نظمیں اور اداکاری

نَیش وِِل کی پہلی انعام یافتہ نوجوان شاعرہ لگن جیتا مُکھوپادھیائے اس مضمون میں بطورادیب اپنے سفر،شاعری کے مستقبل اور بیانیہ کی لیاقت کے بارے میں بات کرتی ہیں ۔

ٹریور لارینس جوکِمس

November 2018

نظمیں اور اداکاری

لگن جیتا مُکھو پادھیائے کو ان کی نظموں کے لیے بہت سے اعزازات ملے ہیں۔ تصویر بہ شکریہ لگن جیتا مکھوپادھیائے

جیتا مُکھوپادھیائے جس وقت نَیش وِل کی پہلی نوجوان انعام یافتہ شاعرہ کے طور پر چنی گئیں تب تک وہ ایک مکمل گلوکارہ اور نغمہ نگار بن چکی تھیں۔وہ کہتی ہیں ’’میں نوجوان انعام یافتہ شاعرہ کے طور پر اپنی شناخت سے انجان تھی۔ اس مقابلے کے لیے ۳ نظموں کو بھیجنا تھا، میرے پاس بس ۳ نظمیں ہی تھیں کیوں کہ میں اپنی زندگی کے زیادہ تر حصے میں ایک نغمہ نگار ہی رہی۔ ‘‘

مگر اس کے باوجود انہوں نے اپنی امی کی ہدایت پر درخواست بھیج دی اور پھر انہیں اس اعزاز کے لیے چن لیا گیا۔ نَیش وِل یوتھ پوئٹ لاریئٹ پروگرامکا مقصد شہری اور سماجی خدمات میں مصروف، تنوع اور رواداری کے تئیں وقف شہر بھر سے نوجوان مصنفوں اور رہنمائوں کی شناخت کرنا ہے۔

ایک انعام یافتہ شاعرہ کے طور پرمُکھوپادھیائے اپنی منفرد شاعری اور اپنے دلکش انداز سے قارئین اور سامعین کا دل جیتتی رہی ہیں۔ریاستی سطح پر نظم سرائی کی مختلف محفلوں سے لے کر شکاگو میں واقع ایک پوئٹری فاؤنڈیشنکے پروگرام میں اپنا کلام پڑھنے تک اور پھر وہائٹ ہاؤس میں اس وقت کی خاتون اوّل میشل اوباما سے میٹنگ تک سب کچھ ان کے پروگرام میں شامل رہا ہے۔ ان کو ۲۰۱۶ ء میں ساؤتھ ایسٹ ریجنل یوتھ پوئٹ لاریئٹ کے خطاب سے بھی نوازا گیا ۔اس کے علاوہ وہ ۲۰۱۷ ء میں نیشنل یوتھ پوئٹ لارئیٹ مقابلے کے فائنل میں پہنچنے والے ۵ امیدواروں میں سے ایک رہ چکی ہیں۔اس مقابلے کا مقصد فنکارانہ کامیابی اورنوجوان قیادت کی صلاحیت سے پُر نو جوانوں کی شناخت کرناہے۔

وہ کہتی ہیں ’’میں نے ہائی اسکول کے تیسرے سال میں ہی موسم گرما کے پہلے شاعری شروع کر دی تھی۔نغمہ لکھنے کی مشق سے تخلیقی صلاحیت میں اضافہ ہوتاگیا لیکن اظہار کے ایک نئے طریقے کی تلاش نے اس میں مزید وسعت بخشی۔ یوں تو میں نغمے ہمیشہ تخلیق کیا کرتی مگر میرے ذہن میں یہ بات تھی کہ میں شاید اس میں کوئی کمال نہیں کر پاؤں گی لیکن اس کے باوجود نظموں کے معاملے میں مَیں نے جوکھم اٹھانے کا فیصلہ کر لیا ۔ اور اسی وقت سے نظم نگاری میرے لیے اظہار ِ ذات کا ایک پسندیدہ وسیلہ بن گئی۔ ‘‘

جس طرح وہ امریکی شاعری کے عصری منظرنامے کی ایک آواز بن کر ابھری ہیں اسی طرح وہ ماضیمیں ایک سنجیدہ طالبہ بھی رہی ہیں۔وہ بتاتی ہیں ’’میرے والد ہمیشہ کہتے ہیں کہ ایک دوئم درجے کا مصنف بننے کے لیے آپ کو اوّل درجے کا قاری بننا پڑے گا۔‘‘

ان کے پسندیدہ شاعر جدت پسندی اور سُر اور تال کی روایات کے حامیوں میں سے ہیں ، خاص طور پر اَیلن جِنس برگ اور ای ای کَمنگس ان کے دل کے زیادہ قریب ہیں ۔ مُکھو پادھیائے کہتی ہیں ’’میں اپنے والد کے پسندیدہ شاعر رابرٹ فروسٹ اور رابندر ناتھ ٹیگور کی شاعری کے ساتھ پلی بڑھی۔شاعری ہمیشہ مجھے اپنی مادری زبان بنگالی میں سننے کو ملی جس سے میرے اندراز خود غنائی صفات پیدا ہوگئیں۔‘‘

کسی بھی نوجوان انعام یافتہ شاعر کی ذمہ داری میں یہ بات شامل ہے کہ وہ اپنی شاعرانہ روایت کو آگے لے جائے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ وہ عصری شاعری کے امکانات کے تئیں مثبت خیال رکھتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں ’’مجھے اعتماد ہے کہ شاعری معاصر امریکی ثقافت کی دہلیز پر ہے خواہ وہ بولے جانے والے الفاظ کی شکل میں ہو یا پھر بڑے ہی محتاط انداز میں شاعری کی شکل میں ۔شاعری کی ہیئت لوگوں کو سبق دیتی ہے کہ وہ کسی چیز کو دوبارہ کیسے محسوس کریں ۔ یہ لوگوں کو اس دنیا کے بارے میں گہرائی سے غور و فکر کرنے کی اہمیت باور کراتی ہے جس میں وہ رہتے ہیں یا جس میں ان کا اپنا مقام ہے۔‘‘

اپنے قارئین اور سامعین کو ایک محتاط فکر و خیال اور انعکاس تک لے جانے کے لیے شعرا کی صلاحیت کا یہ گہرا تعلق شاعری کی ادائیگی کے پہلو کے ساتھ ان کے قریبی تعلق میں بھی واضح نظر آتا ہے۔وہ کہتی ہیں ’’ سامعین اور ناظرین کے سامنے کھڑے ہوکر کلام پیش کرنا دراصل شاعری کا ایک بہت ہی کم اہمیت والا پہلو ہے۔درحقیقت نظم کو اسٹیج پر بالکل زندہ ہو جانا چاہئے تاکہ شاعر اسے مکمل طور پر سمجھانے میں اور اس کی ستائش میں مدد کرے۔کسی نظم کو بلند آواز کے ساتھ پڑھنے کی بات کچھ الگ ہی ہے ، خواہ آپ اسے کسی بھیڑ کے درمیان پڑھیں یا پھر اس کی ادارت کے عمل کے دوران خود ہی پڑھیں۔ اس طور پر اس سے سامعین تک واضح معنی کی رسائی ہوتی ہے ۔ ساتھ ساتھ وہ لحن سے بھی مستفید ہوتے ہیں ۔ جو بات صفحہ قرطاس پر چھپائی جا سکتی ہے اس کا اظہار آواز سے خود بہ خود ہو جاتا ہے۔ ‘‘

اسٹیج پر کلام سنانے کے مُکھوپادھیائے کے عزم اور ان کی اعلیٰ ذہنی صلاحیت کا ایک حصہ زبانی روایات کے ان کے پس منظر سے آتا ہے۔ اس سلسلے میں وہ وضاحت کرتی ہیں ’’ہند کے بیانیہ اور ترتیل کی روایات سے استفادہ کرتے ہوئے، جہاں بعض افراد دوسروںکے اشعار سنا کر اور انہیں ریکارڈ کروا کر اپنی روزی روٹی چلاتے ہیں ، نظم اور ان روایات میں اپنے والد کی مشقوں سے متاثر ہوکر میں اپنی ادائیگی کے ذریعے کسی نظم میں ڈوب جانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتی ۔‘‘

اس طرح شاعر کی آواز کے ساتھ شاعرا نہ فن میں ایک لچک پیدا ہوجاتی ہے ۔اور مُکھوپادھیائے نے اپنی شاعری میں گویا اپنی آواز پا لی ہے۔ وہ کہتی ہیں ’’ قافیہ پیمائی اور سُر اور تال شاعری کے کلاسیکی عناصر ہیں جن کا استعمال رعب ڈالنے کے لیے اسی طرح کیا جانا چاہئے جیسے وقتاََ فوقتاََ بازو پھُلا کر دوسروں کو مرعوب کیا جاتا ہے۔ مگر میں آزاد نظم کی زبردست حامی ہوں کیوں کہ اس میں اس کی گنجائش ہوتی ہے کہ شاعر فراغت سے اپنا مافی الضمیر بیان کر سکے۔ میں محسوس کرتی ہوں کہ یہ صنف کسی خیال کی ترویج میں مدد گار ہے مگر مجھے مزہ اس وقت آتا ہے جب اظہار کے لیے بندشیں نہیں ہوتیں۔ ‘‘

ادب کی اس ہیئت سے اس کے رشتے کو ان کی نظم دی سٹی دیٹ نیور اسٹاپس گیوِنگ میں دیکھا جا سکتا ہے ۔

یہ شہر دلداری میں کبھی کمی نہیں کرتا

سِکستھ اینڈ براڈ وے کے نُکڑ پر

جہاں شہر بھر کا ٹریفک رواں دواں رہتا ہے

جہاں سگنل سبز ہونے کا مطلب ہمیشہ آگے بڑھنے کا اشارہ نہیں ہوتا

جہاں رائے آربیسون نے اوپریٹی اومن لکھا

اپنے حجرے کے بالاخانے تلے، رحم دل نسائی صفات سے حوصلہ افزا

جہاں سیاح اور موسیقی

مل جل کر محبت کا پُرجوش جذبہ چھوڑجاتے ہیں

رینیساں میں اسٹار بکس کے قریب

ان نوجوانوں سے یہ سکے حاصل کرتے ہیں

جو اسکول سے پہلے ایک جگہ ملتے ہیں

اورکبھی بھی میرانام درست طور پر نہیں لے پاتے

جادو سے بھری چھوٹی چھوٹی پیالیوں پر۔۔۔ (انگریزی سے ترجمہ)

ٹریور لارینس جوکِمس نیویارک یونیورسٹی میں تحریر ، ادب اور عصری ثقافت کی تدریس کرتے ہیں۔



تبصرہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے