صحت عامہ کے شعبے میں اشتراک

منیسوٹایونیورسٹی کے اسکول آف پبلک ہیلتھ کے انڈیا پرگرام کے طلبہ نے مغربی بنگال اور کرناٹک کا دورہ کیا ۔ اس دورہ کا مقصد عالمی صحت عامہ کے متعلق تحقیق کرنا اور اس بارے میں معلومات حاصل کرنا ہے ۔

ٹریور لارینس جاکِمس

July 2020

صحت عامہ کے شعبے میں  اشتراک

یونیورسٹی آف منیسوٹا کے اسکول آف پبلک ہیلتھ کے طلبہ اپنے کورس کے تقاضے کے تحت بھارت میں سرگرمی کے ساتھ مقامی آبادی سے ربط ضبط بڑھاتے اور تحقیق کرتے ہیں۔ تصویر بشکریہ یونیورسٹی آف منیسوٹا اسکول آف پبلک ہیلتھ۔ 

یونیورسٹی آف منیسوٹا کے اسکول آف پبلک ہیلتھ کی پروفیسر بیتھ اے وَرنِگ کہتی ہیں ’’کووِڈ ۔ ۱۹ نے ہمیں دکھا دیا ہے کہ دنیا حقیقت میں کتنی چھوٹی ہے ۔‘‘

یہ ان اسباب میں سے ایک ہے جس کی وجہ سے اسکول کا انڈیا پروگرام، جس کے تحت طلبہ مغربی بنگال اور کرناٹک میں تحقیق اور تعلیم میں مصروف ہوتے ہیں اور خدمات انجام دیتے ہیں ، کی معنویت پہلے کے مقابلے زیادہ بڑھ گئی ہے ۔ پروفیسر وَرنِگ یونیورسٹی کی صحت پالیسی اور مینجمنٹ ڈویژن میں پروفیسر ہیں اور یونیورسٹی کے ریسرچ ڈیٹا اسِسٹنس سینٹر کی ڈائریکٹر بھی ہیں ۔

یونیورسٹی کے ذریعہ مغربی بنگال کی راجدھانی کولکاتہ میں چلائے جانے والے عوامی صحت تجربہ پروگرام کی کفالت امریکی ریاست منیسوٹا کے شہر منیا پولس میں واقع ایک غیر منافع بخش تنظیم پاتھویز ٹو چلڈرین کرتی ہے ۔ اس پروگرام سے یونیورسٹی کے طلبہ کو اس کا موقع ملتا ہے کہ وہ ہر برس دو ہفتے کے لیے کولکاتہ کا دورہ کریں اور جَن سیوا اسکول کے ساتھ کام کریں ۔ یہ اسکول شہر میں پری اسکول سطح کے بچوں اور کم آمدنی والے گھروں کی ماؤں کو تعلیم دیتا ہے اور صحت سے متعلق خدمات فراہم کرتا ہے ۔ سکنڈ انڈیا پروگرام منگلور کے نِٹّے (ڈیمڈ یونیورسٹی )کے پبلک ہیلتھ ڈیویژن کا ایک تبادلہ پروگرام ہے ۔ منیسوٹا یونیورسٹی کے جو طلبہ نِٹّے پبلک ہیلتھ ونٹر اسکول پروگرام کا حصہ بنتے ہیں وہ ہر برس ریاست کرناٹک کے ساحلی علاقوں کے دیہی اضلاع میں پڑھتے اور کام کرتے ہیں ۔ اس طور پر انہیں عالمی صحت عامہ سے متعلق موضوعات کے بارے اہم معلومات حاصل ہوتی ہیں ۔

پروفیسر وَرنِگ خیال آرائی کرتی ہیں ’’ عالمی پروگرام اہم ہوتے ہیں کیوں کہ اس میں توجہ کا مرکز وہ علم و ہنر اور رویے ہوتے ہیں جن کا تعلق صحت کے ایسے مسائل سے ہوتا ہے جو بین الاقوامی سطح کے ہوتے ہیں ۔ اس پروگرام سے طلبہ یہ سیکھتے ہیں کہ کس طرح عالمی اشتراک کو فروغ دے کر صحت سے متعلق مسائل کا نہ صرف حل تلاش کیا جائے بلکہ یہ بھی کہ ان کو نافذ کیسے کیا جائے ۔‘‘

گو کہ ایسے عالمی پروگرام کے ذریعہ افراد اور اداروں کا ایک وسیع نیٹ ورک وجود میں آتا ہے مگر اکثر یہ دوستوں اور قابل اعتبار رفقا کے درمیان اشتراک ہوتا ہے ۔ پروفیسر وَرنِگ بتاتی ہیں ’’ اسکول آف پبلک ہیلتھ کا جَن سیوا اسکول کے ساتھ کام کرنے کی وجہ امیریکن رفیوجی کمیٹی کی ڈائریکٹر گریس ایسٹرنگیس سے میرا تعلق بنی ۔ گریس پاتھویز ٹو چلڈرین کی بانی ہیں ۔ یہ غیر منفافع بخش ادارہ جَن سیوا اسکول اور کمیونٹی ڈیولپمنٹ پروجیکٹ کی سرگرمیوں کی بڑی حد تک کفالت کرتا ہے ۔ ‘‘ ایسٹرنگیس نے محسوس کیا کہ تعلیمی مشن کے علاوہ صحت عامّہ کے شعبے میں اشتراک اسکول کے ساتھ ساتھ کمیونٹی کے لیے بھی سودمند ثابت ہوگا ۔

پروفیسر وَرنِگ مزید بتاتی ہیں ’’ ہم نے کافی تفصیل سے اس امر پر گفتگو کی کس طرح اسکول آف پبلک ہیلتھ جن سیوا کے کام آسکتا ہے اور اس سے جن سیوا اسکول کوکیا کیا فائدے ہو سکتے ہیں ۔ آخرکار ہم نے سوچا کہ یہ طلبہ کے لیے بہترین موقع ہے کہ وہ اسکول کے ساتھ کام کرکے سیکھیں ۔ اس کے علاوہ اسکول طلبہ کی توانائی اور ان کے تجربے سے مستفید ہو سکتا ہے ۔‘‘

کچھ اسی طرح کے مراسم منیسوٹا یونیورسٹی کے پروگرام اور نِٹّے (ڈیمڈ یونیورسٹی )کے مابین اشتراک کا سبب بنے ۔ پروفیسر وَرنِگ بتاتی ہیں ’’ نِٹّے سے ہمارا اشتراک ۱۰ برس قبل شروع ہوا ۔ یہ اسکول آف پبلک ہیلتھ کے پروفیسر ولیم ٹوسکینو اور نِٹّے کے ڈاکٹر شیٹّی کے درمیان رفاقت کا نتیجہ تھا ۔ نِٹّے اسکول آف پبلک ہیلتھ قائم کرنا چا ہ رہی تھی ۔ اس نے اس نئے پرو جیکٹ کے لیے ہم سے مدد طلب کی ۔ آخر کار اس دوستی کے سبب نِٹّے ونٹر اسکول وجود میں آیا ۔‘‘

پروفیسر وَرنِگ مزید بتاتی ہیں کہ ونٹر اسکول دو سے تین ہفتوں کا سیشن ہے جو کہ جنوری کے اوائل میں انڈیا میں پڑھایا جاتا ہے ۔ اس میں نِٹّے کے ماسٹر آف پبلک ہیلتھ کے طلبہ اور منیسوٹا یونیورسٹی کے ۵ سے ۱۰ طلبہ کا گروپ شریک ہوتا ہے ۔ وہ کہتی ہیں ’’ تمام طلبہ کیمپس ہی میں قیام کرتے ہیں ۔ وہ کلاسیز بھی ایک ساتھ کرتے ہیں ، فیلڈ سائٹس پر بھی ساتھ ساتھ جاتے ہیں ، گروپ پروجیکٹ پر کام کرتے ہیں ، ساکر ساتھ کھیلتے ہیں اور دیر پا رفاقت قائم کرتے ہیں ۔‘‘

فی الحال کووِڈ ۔ ۱۹ عالمی وبا کی وجہ سے ایسے اشتراک پر بڑا منفی اثر پڑاہے ۔ پروفیسر وَرنِگ بتاتی ہیں ’’ہمارے تمام منصوبے کووڈ ۔ ۱۹ کی وجہ سے شکست خوردہ ہیں ۔ ہم بہت شدت کے ساتھ مقام پر بھی اور فاصلے سے بھی سال بھر کمیونٹی ہیلتھ ورکر پروگرام کے تحت جن سیوا میں کام کرتے ہیں ۔ وہ اپنی ترجیحات اور ضرورتوں کی نشان دہی کرتی ہیں اور ہم ان کو ان کے مقاصد کے حصول میں مدد کرتے ہیں ۔ اس کے لیے ہم ان کے ساتھ پروجیکٹ میں اشتراک کرتے ہیں ، ان کو تربیت دیتے ہیں اور نصاب وضع کرنے میں ان کی مدد کرتے ہیں ۔ مگر وبا کی وجہ سے اسکول بند ہے ۔ بہت سارے لوگ اپنے اپنے آبائی وطن واپس جا چکے ہیں ۔ ہم بھی اور وہ لوگ بھی گویا ٹھہر سے گئے ہیں ۔‘‘

جب حالات موافق ہوتے ہیں تو منیسوٹا یونیورسٹی کے طلبہ پروگرام کے لیے انڈیا کا سفر کرتے ہیں ۔ پروفیسر وَرنِگ بتاتی ہیں ’’ہر سال ایک مشترکہ عمل کے ذریعہ اس پروگرام میں شرکت کے لیے طلبہ کو چنا جاتا ہے ۔ ۳ طلبہ کولکاتہ کے پروگرام میں شریک ہوتے ہیں جب کہ۶ سے ۸ طلبہ نِٹّے کے پروگرام میں شرکت کرتے ہیں ۔ طلبہ اپنی درخواست مکمل کرتے ہیں جس میں ان سے ان کے ماضی میں عالمی تجربہ کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے اور ساتھ ہی موجودہ تربیت کے اہداف کے متعلق پوچھا جاتا ہے ۔ ہم عرضی داخل کرنے والے طلبہ سے یہ امید نہیں کرتے ہیں کہ وہ عالمی صحت کے شعبے میں عملی زندگی گزارنے کے لیے تربیت حاصل کر رہے ہوں گے ۔ بلکہ ہمیں ایسے طلبہ چاہیے جو اچھی علمی استعداد رکھتے ہوں ،جن کے پاس پختگی اور انکساری کی اقدار ہوں اور وہ واقعی میں عالمی تجربے میں دلچسپی رکھتے ہوں ۔‘‘

یہ پروگرام کافی پیچیدہ ہے اور اس کی کئی وجوہات ہیں ۔ بعض کا سبب محض ثقافتی ہوتا ہے ۔ پروفیسر وَرنِگ کہتی ہیں ’’امریکہ کے گریجویٹ طلبہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہاں بھی ایئر کنڈیشن اور تیز رفتار انٹرنیٹ ہوگا ۔ اس کے علاوہ ملبوسات اور آدابِ گفتگو کے حوالے سے بھی ثقافتی اختلافات ہوتے ہیں ۔ امریکی طلبہ کے لیے یہ دیکھنا بھی مشکل ہوتا ہے کہ کولکاتہ میں کم آمدنی والے خاندان کس طرح گزر بسر کرتے ہیں ۔ یہ طلبہ بہت جذباتی ہوجاتے ہیں جب وہ یہ دیکھتے ہیں کہ وہ جتنا کر سکتے ہیں اس سے کہیں زیادہ ایسے خاندان کی ضروریات ہیں ۔‘‘

لیکن ان پروگراموں کے ذریعہ جو کچھ حاصل کیا جا سکتا ہے اور جو کچھ اب تک حاصل ہوا ہے وہ نہایت اہم ہے ۔ وَرنِگ کہتی ہیں’’ جَن سیوا کا سب سے بڑا کارنامہ کمیونٹی ہیلتھ پروگرام کی شاندار کامیابی ہے ۔ پہلے سال میں جب طلبہ وہاں تھے تو توجہ ماؤں اور اساتذہ کی ضرورت جاننے پر دی گئی تھی ۔ دوسرے سال میں ہم نے معروضی اعداد و شمار جمع کیے اور والدوں سے ملاقات کی ۔ اب اسکول کے پاس باقاعدہ ایک مسلمہ کمیونٹی ہیلتھ ورکر پروگرام ہے ۔ اس کے تحت ضروری موضوعات کی نشاندہی کر لی گئی ہے۔ اب ہم پروگراموں کے نفاذ اور ان کے تجزیہ پر توجہ دے رہے ہیں ۔‘‘

یقینی طور پر دونوں جانب تبدیلی واقع ہوتی ہے کیوں کہ اس پروگرام سے امید کی جاتی ہے کہ یہ ایک موثر شراکت ثابت ہوگا ۔ پروفیسر وَرنِگ کہتی ہیں ’’ دونوں پروگراموں کے طلبہ اپنے اندر ہوئی تبدیلی کے بارے میں بتاتے ہیں ۔ طلبہ لگاتار تبصرہ کرتے ہیں کہ یہ عمیق تجربے حاصل کرکے شخصی تناظر میں تبدیلی کے لیے وقت کا تقاضا کرتے ہیں ۔ ہمیں اس سے بہت تشفی ہوتی ہے جب طلبہ یہ کہتے ہیں کہ ہم نے صحت عامّہ کا مشاہدہ ایک بالکل مختلف زاویے سے کیا اور اس سے ان کو دنیا کو کسی دوسرے کے نقطہ نظر سے سمجھنے کا موقع ملا ۔‘‘

ٹریور لارینس جوکِمس نیو یارک یونیورسٹی میں تحریر ، ادب اور عصر ی ثقافت کی تدریس کرتے ہیں۔



تبصرہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے