آغازاچھاتو انجام بھی بھلا

درست راہنمائی سے درخواست دہندگان اپنے اعلیٰ تعلیمی سفر کو آسان بنا سکتے ہیں جو ان کے روشن کرئیر میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔

برٹن بولاگ

December 2022

آغازاچھاتو انجام بھی بھلا

منموہن تھوراٹ(بائیں)نے اپنے ایجوکیشن یوایس اے مشیر سے مشورہ کرنے کے بعد اوکلاہوما اسٹیٹ یونیورسٹی میں داخلہ لینے کا فیصلہ کیا۔ مشیر نے اس بات کو یقینی بنایا کہ وہاں داخلہ لینے سے پیشتر تھوراٹ کو تمام متبادل کی جانکاری ہو۔(تصاویر بشکریہ منموہن تھوراٹ، جارج تھومس/فلیکر)

صوبہ اتر پردیش کے ضلع بریلی سے تعلق رکھنے والے خضر حیات دہرادون سے پیٹرولیم انجینئرنگ کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے ملک  سے  باہر جانا چاہتے تھے۔ انہوں نے یورپ اور آسٹریلیا میں اپنے لیے اعلیٰ تعلیم کی راہیں تلاش کیں مگر بہرحال  بعض وجوہات کے سبب انہیں کامیابی نہیں ملی۔ پھر  انہوں نے خود بہ خود امریکہ میں جامعات کی تلاش شروع کردی کیوں کہ انہوں نے ایجوکیشن یو ایس اے کی مشاورتی خدمات کے بارے میں کبھی نہیں سنا تھا۔  بعد میں انہیں ان کے دوست نے لَبَک میں واقع ٹیکساس ٹیک یونیورسٹی کے متعلق بتایا۔ یہ دوست خود اس یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کر رہا تھا۔ اس کے علاوہ ایک پروفیسر جنہوں نے خود اس اسکول سے تعلیم حاصل کی تھی ان سے بھی حیات  کو اس یونیورسٹی اس کے بارے میں پتہ چلا۔ حیات نے داخلہ کے لیے  درخواست دی جو منظور کر لی گئی۔

۲۰۲۱ءمیں امریکہ میں پیٹرولیم انجینئرنگ کی تعلیم شروع کرنے کے فوراً بعد حیات کو احساس ہوگیا کہ چونکہ آج کل عالمی رجحان توانائی کے قابل تجدید ذرائع کی جانب ہے لہذا ان کےلیےروزگار کے بازار میں   ان کی مہارت نفع بخش ثابت نہیں ہو گی۔ اسی وجہ سے حیات نے ڈیٹا سائنس کا اضافی میجر مضمون لیا۔ وہ دوہری ڈگری کی پڑھائی کر رہے ہیں جس میں انہیں دونوں میجر مضامین کےلیے سخت محنت کرنی پڑ رہی ہے۔ حیات کو  اس بات کا احساس شدت سے ہے کہ اگر اسکول کا انتخاب کرتے وقت انہیں مزید معلومات میسر ہوتیں تو  ان کی راہیں آسان ہوتیں۔

حیات کی ہی طرح کثیر تعداد میں ایسے درخواست دہندگان ہیں جن کی خواہش بھارت کے باہر اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کی ہے مگر ان کے پاس درست معلومات کا فقدان ہوتا ہے۔  ایسے طلبہ کی جامعات اور میجر مضامین کے انتخاب میں پیشہ ورانہ راہنمائی کی جائے تو یہ چیز ان کے لیے کافی سود مند ثابت ہو سکتی ہے۔ صرف امریکہ میں ہی منظور شدہ کالجوں کی تعداد تقریباً ۴۵۰۰ ہے۔ بغیر صحیح راہنمائی کے کورس اور یونیورسٹی کے انتخاب اور نئے تعلیمی نظام  کے مطابق خود کو ڈھالنے میں طلبہ کو کافی مشکلات کا سامنا کرپڑسکتا ہے۔

یہی وہ مقام ہے جب  امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے کی جانے والی ایجوکیشن یو ایس اے کی مشاورت چیزوں کو آسان بنا سکتی ہے۔ یہ  امریکی وزارت خارجہ کا ایک عالمی نیٹ ورک ہےجس کے  بھارت میں سات مراکز ہیں۔ یہ مراکزامریکہ میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے منظور شدہ امریکی اعلیٰ تعلیمی اداروں کے متعلق بالکل درست اور جامع معلومات فراہم کرتے ہیں۔ اس  کی اکثر خدمات مفت میں دستیاب ہیں۔

محمد خضر حیات ٹیکساس ٹیک یونیورسٹی سے دو مضامین میں میجر کر رہے ہیں۔ حیات کہتے ہیں کہ کاش انہیں کالج کا انتخاب کرنے سے پہلے پیشہ ورانہ راہنمائی ملی ہوتی تو انہیں باخبر فیصلے کرنے میں آسانی ہوتی۔(تصویر بشکریہ محمد خضر حیات)

درست شروعات کریں

امریکہ میں کالجوں کی ایک کثیر تعدا موجود ہے۔ ان میں اپنےلیے مخصوص کالج کا انتخاب کرنے کےلیے ایجوکیشن یوایس اے  کا درخواست دہندگان کومشورہ ہے کہ وہ غیر منفعت بخش کالج بورڈ جیسی آن لائن خدمات کا استعمال کریں۔ کالج بورڈ کی ویب سائٹ پر اعلیٰ تعلیم کے متعلق بہت ساری معلومات دستیاب ہیں ،مثلاً مخصوص کالج کس یا کن کن صوبوں میں واقع ہیں، ان میں کون کون سے میجر مضامین یا دلچسپی کے مضامین پڑھائے جاتے ہیں، تعلیمی ادارے کا حجم کیسا ہے، آیا یہ دیہی علاقہ میں واقع ہے یا شہری علاقہ میں اور اس کی تعلیمی اخراجات کتنے ہیں۔ تمام معلومات تفصیل کے ساتھ درج ہیں۔

طلبہ کے اندر عام رجحان یہ پایا جاتا ہے کہ وہ معروف جامعات کو ترجیح دیتے ہیں۔ مگر ایجوکیشن یو ایس اے کی ویب سائٹ پر صاف الفاظ میں درج ہے کہ کسی مخصوص تعلیمی ادارے میں داخلہ لینے کی کوشش کرنے کے بجائے آپ کے لیے ’’بہترین کالج وہ ہے جو آپ کی تعلیمی، مالی اور ذاتی ضروریات کے حساب سے مناسب ہو۔‘‘

مربوط تعارف

ممبئی کے رہنے والے منموہن تھوراٹ امریکہ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے خواہش مند تھے مگرانہیں اپنی تلاش شروع کرنے کے بارے میں ذرا بھی اندازہ نہیں تھا۔ لیکن شکرہےکہ انہیں ایجوکیشن یو ایس اے کے بارے معلوم ہوا۔تھوراٹ  کہتے ہیں ’’ایک ایسے شخص کے لیے جس نے امریکہ کو محض فلموں میں ہی دیکھا ہواس کے لیے یہ سمجھ پانا بہت مشکل تھا کہ وہاں تعلیم حاصل کرنا کیسا ہوگا اور وہاں کی جامعات میں کیسا تعلیمی نظام ہوگا۔‘‘ انہوں نے ممبئی میں واقع ایجوکیشن یوایس اے کے مشاورتی مرکز میں جانا شروع کیا اور وہاں کے مشیروں سے امریکی نظامِ تعلیم بارے میں معلومات حاصل کیں۔

ایجوکیشن یو ایس اے کے مشورہ پر عمل کرتے ہوئے تھوراٹ نے پانچ جامعات میں میکینکل انجینئرنگ میں داخلہ کی درخواست دی۔ انہیں پانچ میں سے ایک اوکلاہوما اسٹیٹ یونیورسٹی نے میرٹ اسکالر شپ دی جس سے ان کی ٹیوشن کی فیس کا کچھ حصہ ادا ہوا۔ اسکالر شپ کے ساتھ ساتھ اوکلاہوما میں نسبتاً کم اخراجات کے سبب تھوراٹ کے گھروالوں کے لیے ان کو امریکہ میں تعلیم دلانا ممکن ہو سکا۔ انہوں نے ۲۰۱۷ء میں میکینکل انجینئرنگ میں ڈگری مکمل کی۔

تھوراٹ بتاتے ہیں کہ ایجوکیشن یوایس اے میں موجود ان کے مشیر نے اسکول پر حتمی فیصلہ کرنے سے قبل یہ یقینی بنایاکہ وہ تمام تر پہلوں سے بخوبی واقف ہوں۔ مشیر نے ان کو بتایاکہ اوکلاہوما اسٹیٹ یونیورسٹی میں تعلیم کا معیار بہتر ہے مگر پھربھی ان کو پسند نہیں آئے تو وہ کسی دوسری یونیورسٹی میں تبادلہ کر سکتے ہیں۔ بقول تھوراٹ’’ اس سے مجھے کافی حوصلہ ملا۔‘‘

فی الحال تھوراٹ ممبئی میں واقع ایجوکیشن یو ایس اے میں منیجر کی حیثیت سے کام کرتے ہیں۔

بے مثال ذاتی ترقی

تھوراٹ اور حیات دونوں اپنی امریکی تعلیم کی بہت قدر کرتے ہیں۔حیات بتاتے ہیں ’’ امریکہ میں تعلیم عمل رخی اور صنعتی ضروریات کو پورا کرنے والی ہوتی ہے  جبکہ بھارت میں تعلیم میں نظریاتی عنصر زیادہ ہوتا ہے۔‘‘

تھوراٹ بتاتے ہیں ’’  امریکہ میں حد درجہ انفرادیت سے مجھے بہت جھٹکا لگا۔‘‘ وہ امریکی اور بھارتی نظام تعلیم کا موازنہ کرتے ہوئے کہتے ہیں ’’ امریکہ میں آپ کو اپنے مشیر کے ساتھ بیٹھ کر اپنی کلاسوں اور تعلیمی مراحل کی منصوبہ بندی کرنی ہوتی ہے جبکہ بھارت میں طلبہ کو یہ بتانے کی ضرورت پیش آتی ہے کہ انہیں کون کون سی کلاسوں کا انتخاب کرنا ہے۔ امریکی طریقہ کار سے آپ کے اندر ذمہ داری  کا احساس پیدا ہوتا ہے جو بے مثال ذاتی ترقی کی راہ ہموار کرتا ہے۔‘‘

امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے سے حیات کےسامنے بہت سارے مواقع کھل گئے۔ حیات کا کہنا ہے کہ اگر انہیں شروع سے ہی صحیح رہنمائی حاصل ہو گئی ہوتی تو وہ اپنے وقت اور ڈگری کا بہتر استعمال کر پاتے اور شروع سے ہی ڈیٹا سائنس کی تعلیم حاصل کرتے۔

برٹن بولاگ واشنگٹن ڈی سی میں مقیم ایک آزاد  پیشہ صحافی ہیں۔


ٹَیگس

تبصرہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے