طلبہ کے لیے مددگار نظام

کورونا وبا کے دوران صحت سے متعلق مشوروں سے لے کر دلجوئی اور دوسری خانگی ضرورتوں و کھانوں کے منصوبوں میں اپنے بین الاقوامی طلبہ کی مدد کے لیے امریکی یونیورسٹیوں نے خاطر خواہ اقدامات کیے ہیں۔

پارومیتا پین

July 2020

طلبہ کے لیے مددگار نظام

 

رینو میں واقع یونیورسٹی آف نیواڈا جیسے تعلیمی اداروں نے ایسے طلبہ کو بے شمار اعانتی خدمات بہم پہنچائیں جو گھر واپس نہیں جا سکے تھے۔ ڈی ایم آئی اے ٹی / بشکریہ وکی پیڈیا

کورونا وبا نے امریکہ میں زندگی کے بیشتر پہلوؤں کے ساتھ اعلیٰ تعلیمی اداروں کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے۔ امریکہ میں تمام یونیورسٹیوں کو اس سال مارچ سے اپنے سارے کیمپس بند کردینے پڑے۔ اس صورتحال میں مستقبل کے لیے انہیں تیاری کا وقت بھی نہیں مل پایا ۔ روڈ آئی لینڈ میں براؤن یونیورسٹی، کالج آف آئیڈا ہو اور یونیورسٹی آف نیواڈا جیسے اداروں کے لیے یہ وقت آن لائن پڑھائی کی جانب منتقل ہونے، ساتھ ہی اپنے طلبہ اور عملے کو محفوظ رکھنے کے چیلنج سے نمٹنے کا تھا۔ یہ صورتحال خاص طور سے ان بین الاقوامی طلبہ کے لیے مشکلات سے پُر رہی جو بین الاقوامی سفر سے متعلق پابندیوں یا سفر پر ہونے والے اخراجات کی وجہ سے اپنے گھروں کو واپس نہیں جا سکے تھے۔

براؤن یونیورسٹی میں گلوبل ایجوکیشن کی اسسٹنٹ پروووسٹ اور  میلن میز انڈر گریجویٹ فیلوز پروگرام کی ڈائریکٹر اسابے پولوما کے لیے یہ وقت دانستہ طورپر طلبہ کو مشورہ دینے اور ان کی حمایت کو یقینی بنانے کا تھا۔ وہ کہتی ہیں کہ یہ وقت طلبہ کو یہ بتانے کا نہیں تھا کہ انہیں کون سی کلاس کرنی ہے بلکہ یہ وقت رسد سے متعلق مسائل کو حل کر نے کا تھا۔ اس کے ساتھ ہی یہ وقت یہ خیال کرنے کا بھی تھا کہ تعلیم کے تصور ات کو کس طرح ہم لوگ ایک نئی تعریف دے سکتے ہیں اور اپنی بنیادی ترجیحات کی وضاحت کر سکتے ہیں کیوں کہ ہم ہر کام آن لائن انجام نہیں دے سکتے۔

گلوبل براؤن سینٹر فار انٹرنیشنل اسٹوڈنٹس  کے  پروگرام ڈائریکٹر اینڈریو ہیالڈ کہتے ہیں’’فوری طور پرہم طلبہ کے پاس پہنچے اور انہیں پھر سے یقین دہانی کرائی کہ ہم لوگ ان کی ہر امداد کے لیے تیارہیں۔‘‘ انڈر گریجویٹ طلبہ شرییَس گوٹمارے، آرین سریواستو اور سوبھِت سنگھ اروڑہ براؤن یونیورسٹی کیمپس ہی میں رک گئے تھے ، لہٰذا مناسب جسمانی فاصلہ برقرار رکھنے کے لیے انہیں مختلف اقامت گاہوں میں پہنچایا گیا۔ گوٹمارے بتاتے ہیں ’’ان طلبہ کے لیے بھی کھانے پینے کا نظم کیا گیا جو اس سہولت کا فائدہ اٹھانے کے مجاز نہیں تھے۔ ہمیں خود کو محفوظ رکھنے کے طریقوں کے تعلق سے باقاعدہ ای میل ملتے رہے۔ یہی نہیں ہمیں کیمپس میں صحت خدمات سے فیضیاب ہونے کے لیے موسمِ گرما والے سمسٹر کی فیس بھی ادا نہیں کرنی پڑی۔‘‘

طلبہ کی حفاظت اور فلاح و بہودکو یقینی بنانے کے لیے واضح مواصلت  کالج آف آئیڈاہوکی ترجیحات میں بھی شامل تھی۔ بزنس ایڈمنسٹریشن کی طالبہ سونالی تھومبرے کو عملی تربیت کے اختیاری مضمون کی منظوری ملی ہی تھی کہ کیمپس بند ہو گیا۔وہ بتاتی ہیں’’ہمیں اپنے ہاسٹل میں رہنے کی اجازت دی گئی ۔ اس کے ساتھ ہمیں روزانہ تین وقت کا کھانا دینے کا نظم بھی کیاگیا۔‘‘کالج آف آئیڈا ہو سے موسمِ بہار میں تعلیم مکمل کرنے والے لِنڈو گاما نے بتایا ’’میری دیکھ ریکھ کا نظم کرنے کی کالج پر کوئی ذمہ داری نہیں تھی مگر کالج انتظامیہ نے مجھے کیمپس میں ٹھہرنے دیا کیوں کہ میں گھر واپس نہیں جا سکتا تھا۔‘‘

والمارٹ اور دیگر پنساری دکانوں نے طلبہ کو ضروری اشیاء کی خرید کے لیے گفٹ کارڈ بھی دیے۔ کالج آف آئیڈا ہو میں وائس پریسڈینٹ فار اسٹوڈنٹس افیئرس اور  ڈین آف اسٹوڈنٹس پَول بینیَن کہتے ہیں’’ہمیں احساس ہوا کہ جو کیمپس میں رُکے ہوئے ہیں یہ وہ طلبہ ہیں جو گھر نہیں جا پائے ہیں۔ لہٰذا کسی بھی طالب علم کو کھانے پینے کی کوئی کمی نہ ہو ،اسے یقینی بنانا ہمارے لیے کافی اہم تھا۔‘‘ایسے وقت میں کالج نے ذہنی صحت کی خدمات کو بھی اولین ترجیح دی اور فوری طور پر ٹیلی ہیلتھ (برقی معلومات اور ٹیلی مواصلات کے ذر یعہ صحت خدمات)کے طریقے کو اپنایاجس نے ہرضرورت مندطالب علم تک اس کی آسان رسائی کو ممکن بنا یا۔ پڑھائی ، سیکھنے میں مدد کرنے والی اشیاء اور معذور افراد سے متعلق خدمات کو آن لائن کر دیا گیا۔

کلاسیز آن لائن منتقل کریے جانے سے بہت سارے بین الاقوامی طلبہ کے لیے ویزا کی میعاد سے متعلق پیچیدہ معاملات سامنے آئے۔ریاست نیواڈا کے شہر رینو میں واقع یونیورسٹی آف نیواڈا میں آفس آف انٹرنیشنل اسٹوڈنٹس اینڈ اسکالرس کی ایکزیکٹو ڈائریکٹر مارتِسا مشاڈو ولیمس نے بتایا ’’بین الاقوامی طلبہ کو آن لائن کریڈٹ کے لیے تین گھنٹے سے زیادہ کی اجازت نہیں دی جاتی ہے۔ ویزا اور عملی تربیت کے اختیاری مضمون کے طلبہ کی تشویشات کے حل کے لیے دفتر۲۴گھنٹے کام کرتا ہے۔ اس کے علاوہ ہمارے دفتر نے یونیورسٹی کے بین الاقوامی طلبہ سے فون ، ای میل ،ویبینار اور زوم میٹنگ کے ذریعہ بھی رسائی حاصل کی۔فون کے ذریعہ بات چیت نے ہمیں طلبہ کی ذہنی صحت کا جائزہ لینے اور فوری ضروریات کی فراہمی کا موقع دیا۔‘‘

طلبہ کی تشویشات کے حل اور امدادی وسائل کے لیے براؤن یونیورسٹی کا  گلوبل برائون سینٹر فارانٹرنیشنل اسٹڈیز ایک مرکز کی مانند خدمات انجام دیتا رہا۔ پولوما باخبر کرتی ہیں’’ہماری یونیورسٹی کی قیادت بین الاقوامی طلبہ کی منفردضروریات سمجھتی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ ان کی حیثیت ہمارے لیے اہم ترجیح والی ہے۔‘‘  سینٹر کے زیادہ تر کام کو اس طور پر انجام دیا گیا تاکہ صحت سے متعلق ہدایات پر عمل درآمد کیا جا سکے۔ اسی سینٹر نے زوم پر  کافی آورس جیسے ورچووَل پروگرام کا اہتما م کیاجس میں اس بات کو یقینی بنایا گیا کہ ہمارا بین الاقوامی دفتر امیگریشن اور ویزا سے متعلق طلبہ کے سوالات کے جواب دے۔ ہماری مشاورتی خدمات آن لائن کر دی گئیں اور ان تک سب کی رسائی کو ممکن بنایا گیا۔

چوں کہ کلاسیں آن لائن کر دی گئیں ، لہٰذا ان طلبہ کی نوکری بچ گئی جو تدریسی معاون کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ پولوما بتاتی ہیں’’صرف علم کیمیا کے ایک کورس کے لیے ہم ہمہ وقت تدریسی خدمات فراہم کرسکے کیوں کہ ہمارے یہاں الگ الگ ملکوں کے وقت کے حساب سے داخلی اور بین الاقوامی تدریسی معاون کی سہولت دستیاب تھی۔ یہ اس اہمیت اور قدر و قیمت کی بس ایک مثال ہے جس سے بین الاقوامی طلبہ ہمارے کیمپس کو سرفراز کرتے ہیں۔ ہمیں چاہئے کہ ہم اس کی اہمیت کو تسلیم کریں اور اس سے فائدہ اٹھائیں۔‘‘

پارومیتا پین رینو میں واقع یونیورسٹی آف نیواڈا میں گلوبل میڈیا اسٹڈیز کی معاون پروفیسر ہیں۔


ٹَیگس

تبصرہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے