صنفی پیچیدگیوں کی فلم سازی

فلبرائٹ۔نہرو اکیڈمک اینڈ پروفیشنل ایکسیلنس فیلو ہرجنت گِل کا مقصد اپنی فلموں کے ذریعہ بھارت میں مردانگی کے تصور پر ضرب پہنچانا ہے۔

پارومیتا پین

July 2020

صنفی پیچیدگیوں کی فلم سازی

فلبرائٹ۔ نہرو اکیڈمک اینڈ پروفیشنل ایکسیلنس فیلو ہرجنت گل ٹیلس فرام ماچو لینڈ کی فلم سازی کے دوران۔تصویر بہ شکریہ ہرجنت گِل

میں نے آسٹِن میں واقع یونیورسٹی آف ٹیکساس میں گریجویشن کرتے ہوئے جو اوّلین فلم دیکھی تھی اس کا نام تھا ’مردستان(ماچو لینڈ): ریفلیکشنس آن انڈیان مَین ہوڈ‘۔ اس فلم میں فلمساز اور ماہر علم بشریات ہر جَنت گِل کی جس بات نے میرا دل جیت لیا تھا وہ تھی فلم کی سادگی۔انہوں نے اپنی فلم کا موضوع مردانگی کو بنایا۔ انہوں نے اتنے سادہ طریقے سے فلم میں دکھایا تھا کہ کس طرح انڈیا کے چھوٹے قصبوں میں مرد، نوجوان اور ضعیف العمر مردانگی کا تصور کر تے ہیں۔اس فلم میں عام انسانوں نے انتہائی ذاتی اور بہت ہی ایماندارانہ طور پر اپنی کہانیاں بتائی تھیں جس میں یہ سمجھانے کی کوشش کی گئی تھی کہ انڈیا میں آخر مرد سے مراد کیا لی جاتی ہے۔فلم سے معلوم ہوا کہ مرد کے تصور میں گرچہ کافی نقص ہے مگر پھر بھی وہ بہت حد تک انسانی اور جذبۂ محبت سے لبریز ہے۔ گِل بتاتے ہیں ”میں ان لوگوں کو ۱۰ برس سے زیادہ عرصے سے جانتا ہوں۔ اور جب آپ کسی کو اتنے لمبے عرصے سے جانتے ہوں تو آپ یقینی طور پر فکر مند ہوں گے کہ ان کو آخر پردے پر کس طرح پیش کرنا ہے،خواہ آپ ان کے نظریے سے اتفاق نہیں رکھتے۔“

مردانگی کاتجزیہ

ہمدردی کا یہ گہرا احساس ہی گل کی تمام فلموں کا مرکزی خیال ہے، خواہ وہ روٹس آف لو(۱۱۰۲ء)ہو، مردستان (۲۰۱۴ء) ہویا پھر سینٹ اوے بوائز (۲۰۱۶ء)ہو۔گل میری لینڈ میں واقع ٹاؤسنڈ یونی ورسٹی میں بصری علوم بشری کے ایسو سی ایٹ پروفیسر ہیں۔ ان کی تحقیق کا موضوع شمالی ہند میں مردانگی، مقبول ثقافت اور بین الاقوامی ہجرت کا آپس میں رشتہ ہے۔انہیں حال ہی میں فل برائٹ۔نہرو اکیڈمک اینڈ پروفیشنل ایکسیلینس ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔ اور وہ اپنے تازہ ترین پروجیکٹ ’ٹیلس فرام ماچو لینڈ‘ کے سلسلہ میں نئی دہلی میں واقع آفاقی حیثیت کی یونیورسٹی جامعہ ملیہ اسلامیہ سے وابستہ ہیں۔ اس کی عکس بندی دہلی میں ہوئی ہے۔ یہ ۸ حصوں پر مشتمل ویب سیریز ہے۔ یہ ایک عمیق ورچووَل ریئلیٹی ویب سیریز ہے جس میں ناظرین ۸ مختلف پس منظر والے بھارتی مردوں کا جامہ پہن کر ان کی آزادی کے بعض حصوں، مراعات، ذمہ داریوں اور بوجھ کی دریافت کریں گے کہ آخر آج کے بھارت میں مرد ہونے کے کیا معنی ہیں۔

اس موضوع سے گل کی واقفیت بڑی انوکھی قسم کی ہے۔ جب وہ محض ۱۴برس کے تھے تو ان کے گھر والے چنڈی گڑھ سے ہجرت کرکے کیلیفورنیا میں جا بسے تھے۔گل نے سان فرانسسکو یونیورسٹی سے بصری علوم بشر کی تعلیم حاصل کی۔بعد ازاں واشگٹن ڈی سی میں واقع امیریکن یونیورسٹی سے علوم ِ بشر میں پی ایچ ڈی کی۔ وہ اب یہیں مستقل طور پر مقیم ہیں۔

گل بتاتے ہیں ”میں نے اپنے والدین کو اپنے متعلق ۱۶برس کی عمرہی میں بتا دیا تھا۔ اب گرچہ انہوں نے مجھے قبول کر لیا ہے مگر میری جنسی شناخت کو تسلیم کرنے میں انہیں کافی وقت لگا۔ ہائی اسکول کے زمانے میں جن کو اعلانیہ طور پر ہم جنس کے طور پر جانا جاتا تھا، میں بھی ان میں سے ایک تھا۔ اس سے مجھے نفرت اور اذیت کا سامنا کرنا پڑا مگر اس کی وجہ سے میں مردوں کی زندگی اور معیاری مردانگی کے ان کے تصور سے ہم آہنگ ہو گیا۔“

بعد ازاں چند حوصلہ افزا اساتذہ اور ہم جماعتیوں کی مدد سے انہوں نے اپنے ہائی اسکول میں ہم جنس اتحاد کی بنیاد ڈالی جس کا مقصد ہم جنس خواتین، مرد، دو جنسی اور مخنث طلبہ کے لیے سازگار ماحول تیار کرنا تھا۔

تضادات کی تقریب

گل کے لیے فلمیں ایسے مسائل کو اجاگر کرنے کا ذریعہ ہیں جو گرچہ بہت پریشان کن ہیں مگر ایک منصفانہ معاشرے کی تعمیر کے لیے ایسے مسائل کا عوامی دائرۂ کار میں لانا بے حد ضروری ہے۔گل کی فلموں کی نمائش فلمی میلوں، علمی کانفرنسوں، بی بی سی، دور درشن اور پی بی ایس سمیت دنیا بھر کے ٹی وی نیٹ ورک پر ہوئی۔ وہ بتاتے ہیں ”میں نے مردستان کے لیے دانستہ دور درشن کو چنا کیوں کہ میں چاہتا تھا کہ انڈیا میں لوگ دیکھیں اور اس کے بارے میں بات کریں کہ مردوں، عورتوں اور وہ لوگ جو صنف کی معروف تعریف میں شامل نہیں کیے جاتے ان کے تجربات پر صنف کیسے اثر انداز ہوتی ہے۔“

گل ایک دستاویزی فلمساز ہیں۔ مگر چوں کہ ان کی تربیت ایک ماہر علوم بشر کی حیثیت سے ہوئی ہے لہٰذا ان کے انداز بیان میں گہری نسل نگاری کے نقوش پائے جاتے ہیں۔وہ بتاتے ہیں ”ماہر علوم بشر کی حیثیت سے ہمیں تربیت دی جاتی ہے کہ ہم خاموشیوں کو بھی سنیں۔“

گل ایک کتاب چھپوانے کا ارادہ کر رہے ہیں جو ان کی تحقیق پر مبنی ہے۔ کتاب کا عنوان ہے ’کمنگ آف ایج اِن ماچو لینڈ‘۔ وہ اس بات پر اظہار تشکر کرتے ہیں کہ وہ استاد کی حیثیت سے ایک برس کی چھٹی پر بھارت جا سکتے ہیں جہاں وہ اپنا وقت تحقیق اور فلموں کی عکس بندی میں گزار سکتے ہیں۔“

گل اپنے فل برائٹ۔ نہرو پروجیکٹ کے ذریعہ امید کرتے ہیں کہ وہ نوجوان سامعین تک رسائی حاصل کر سکیں گے کیوں کہ نوجوان موبائل فون کے علاوہ یو ٹیوب جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے بہت بڑے صارفین ہیں۔وہ دہلی میں واقع تین تنظیموں ٹاکنگ اباؤٹ ریپروڈکٹو اینڈ سیکسووَل ہیلتھ اشوز(ٹی اے آر ایس ایچ آئی۔تارشی)،مین اگینسٹ وایولینس اینڈ ابیوز(ایم اے وی اے۔ ماوا)اور وائی پی فاؤنڈیشن کے اشتراک سے چھوٹے چھوٹے سلسلہ وار قصہ ترتیب دے رہے ہیں جن کا مرکزی خیال مردانگی کے آس پاس گھومتا ہے۔ان کو ورچووَل رئیلیٹی کے توسط سے دیکھا بھی جا سکتا ہے۔یہ چیزیں اصل میں صنف اور مردانگی کے نصاب کے موضوعات ہیں۔

وہ بتاتے ہیں ”ہم ایسی راہیں تلاش کرنا چاہتے ہیں جن سے ہم بھارتی نوجوانوں کو مردانگی اور جنس کے متعلق گفتگو میں شریک کرسکیں۔“

وی آر ۳۶۰ کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں ”یہ کافی دلچسپ ہے۔ بآسانی موبائل فونس کے لیے موزوں ہونے کی صلاحیت سے متصف ہے اور ایک خاص قسم کی مشغولیت اور ہمدردی کو فروغ دیتی ہے جس کا تجربہ ناظرین ایک دستاویزی فلم دیکھ کر نہیں کر سکتے۔“

’ٹیلس آف ماچو لینڈ‘ کے ذریعہ گل مردوں کے متعلق بھارتی ذرائع ابلاغ میں مشتہر کیے گئے اس بھرم کو توڑنا چاہتے ہیں کہ وہ بھارتی خواتین کے تئیں، محافظانہ، تشدد پر مبنی یا تحکمانہ رویہ رکھتے ہیں۔ وہ باخبر کرتے ہیں ”میں اس تنگ فریم ورک کی مزید توسیع دینے کی سعی کر رہا ہوں جسے مرد کہتے ہیں۔ یہ بہت ہی اہم ہے کہ مردوں کو اس لائق بنایا جائے کہ وہ ایسے دقیانوسی خیالات کو مسترد کریں۔ مردوں کو یہ باور کرانا ضروری ہے کہ احساسِ فوقیت ہمیشہ ان کے لیے سود مند نہیں ہو سکتا۔“

گل کی تمام دستاویزی فلمیں بشمول مردستان ان کی ویب سائٹ پر دیکھی جا سکتی ہیں۔

پارومیتا پین رینو میں واقع یونیورسٹی آف نیواڈا میں گلوبل میڈیا اسٹڈیز کی معاون پروفیسر ہیں۔



تبصرہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے