ایک بہتر کرہ ارض کے لیے اشتراک

سنگھ متر دتہ نثار پروجیکٹ میں اپنے رول، کولکاتہ سے ناسا تک کے اپنے سفر اور اسٹیم شعبہ جات میں خواتین کو بااختیار بنانے کے بارے میں بتا رہی ہیں۔

گریراج اگروال

March 2024

ایک بہتر کرہ ارض کے لیے اشتراک

سنگھ متر دتہ (بائیں) نئی دہلی کے امیریکن سینٹر میں امن اور خلائی تحقیق پر منعقد نوجوانوں سے مکالمے کے ایک پروگرام میں۔(تصویر بشکریہ راکیش ملہوترا)

سنگھ متر دتہ عنقریب لانچ کیے جانے والے نثار سٹیلائٹ کے پروجیکٹ مینجمنٹ ٹیم کی رکن ہیں جو ناسا اور اور ہندوستانی خلائی تحقیق کے ادارے اسرو کا زمین کا مشاہدہ کرنے والا مشترکہ مشن ہے۔ وہ تین دہائیوں سے زیادہ عرصے سے ناسا میں کام کر رہی ہیں اور اب واشنگٹن ڈی سی میں ناسا کے صدر دفتر میں قائم سائنس مشن ڈائریکٹوریٹ کے ارتھ سائنس ڈیویژن میں پروگرام ایکزیکٹو کے طور پر اپنی خدمات انجام دے رہی ہیں۔

انہوں نے جنوری ۲۰۲۴ء میں امریکی محکمہ خارجہ کے کفالت شدہ دورے کے تحت ہندوستان کا دورہ کیا اور قومی دارالحکومت دہلی میں اسکولی طلبہ سے ملاقات کی۔اس سے پہلے نومبر ۲۰۲۳ء میں کیے جانے والے دورے کے دوران انہوں نے نئی دہلی کے امیریکن سینٹر میں ’ ڈوئنگ گُڈ فار مین کائنڈ۔ دی ناسا وے‘ کے موضوع پر ایک ماسٹر کلاس کا انعقاد کیا۔

سنگھ مِتر دتہ نے اسپَین کے ساتھ نثار پروجیکٹ ، خلائی سائنس میں کریئر سازی کے مواقع، امریکہ۔ ہندوستان کے درمیان تعاون اور ناسا میں اپنے تجربات پر بات کی۔ پیش ہیں انٹرویو کے اقتباسات۔

قارئین کی دلچسپی کے لیے ہمیں نثار پروجیکٹ کے بارے میں بتائیں۔

میں نثار پروجیکٹ کے حوالے سے کافی پُرجوش ہوں اور اس کے ابتدائی تصوراتی مرحلے سے ہی اس سے وابستہ ہوں۔ ہم نے ڈیزائن اور ترقیاتی کام کامیابی سے مکمل کر لیا ہے اور اب اس کے انضمام اور جانچ کے آخری مراحل میں ہیں۔ ہمارا حتمی مقصد اس سٹیلائٹ کو لانچ کرنا اور اس کے ذریعہ اہم سائنسی ڈیٹا اکٹھا کرنا ہے۔ ہم حاصل کیے جانے والے سائنسی ڈیٹا کو سائنس کمیونٹی کے ساتھ ساجھا کریں گے، جو اس کا تجزیہ کرے گی اور اسے سماجی فائدے کے لیے استعمال کرے گی۔ جیسے جیسے ہم لانچ کے قریب پہنچ رہے ہیں، میرا جوش بڑھتا جا رہا ہے۔

نثار اپنی غیر معمولی حسّاسیت کو بروئے کار لاتے ہوئے ہمیں زمین کی سطح، سطح سمندر اور برف کی سطح پر ہونے والی تبدیلیوں کے بارے میں جامع معلومات فراہم کرے گا۔ ان تبدیلیوں کو سمجھنے سے ہمیں موسمیاتی تبدیلیوں اور قدرتی آفات سے متعلق متعدد مسائل کی بنیادی وجہ کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔ پھر ہم ان نتائج سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور پالیسی سازوں کو مؤثر طریقے سے قائل کر سکتے ہیں تاکہ اس کرہ ارض کو اپنی آنے والی نسلوں کے رہنے کے لیے ایک بہتر جگہ بنایا جا سکے۔

خلائی سائنس میں امریکہ۔ہندوستان تعاون کے بارے میں آپ کیا کہنا چاہیں گی؟ انہیں اگلی سطح تک لے جانے کے کیا مواقع ہیں؟

ناسا اور اسرو کے درمیان یہ پہلا بڑا تعاون ہے اور یہ اچھی پیش رفت کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ ہم اس باہمی تعاون سے سیکھے گئے اسباق کو استعمال کرنے جا رہے ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ مستقبل میں ہاتھ میں لیے جانے والے معاہدے مزید آسانی سے آگے بڑھیں۔ نثار پر مل جل کر کام کرنے کے دس سال سے زیادہ عرصے کے دوران ہم نے ایک دوسرے سے سیکھا ہے کہ کون سی چیز بہتر طور پر کام کرتی ہے اور یہ کہ باہمی فائدے کے لیے باہمی تعاون کو کیسے بہتر بنایا جائے۔ ہم سبھی کے پاس محدود بجٹ ہے۔ لہٰذا ہم باہمی دلچسپی کے شعبوں میں جتنا زیادہ تعاون کریں گے، اپنے متعلقہ اہداف کو کامیابی سے حاصل کرنے کے لیے اپنے وسائل کا اسی قدر بہتر استعمال کر سکیں گے۔

آپ کو کب خلائی سائنس میں اپنی دلچسپی کا پتہ لگا اور کس چیز نے آپ کو اسے بطور کریئر اپنانے کی ترغیب دی؟

میں ہندوستان میں پیدا ہوئی اور کولکاتہ میں میری پرورش و پرداخت ہوئی ۔ میرے بڑے بھائی سائنس کی تعلیم حاصل کررہے تھے ۔ اور شاید انہیں دیکھ کر ہی میرے اندر سائنس کی تعلیم حاصل کرنے کا شوق پیدا ہوا۔ میرے اسکول کے ایّام کے دوران چاند پر اترنا ایک اہم واقعہ تھا۔ اور اسی نے خلائی سائنس میں کریئر بنانے کی ابتدائی ترغیب کا کام کیا۔

ہمیں ناسا میں اپنے تجربات کے بارے میں بتائیں۔

ناسا میں میرا داخلہ اتفاقی تھا۔ امریکہ میں اپنی اعلیٰ تعلیم مکمل کرنے کے بعد میں ایک یونیورسٹی میں تدریس کے فرائض انجام دینے لگی۔ میں اپنے شوہر کے شہر میں ہی نوکری تلاش کرنا چاہتی تھی۔ نتیجتاً ہم واشنگٹن ڈی سی چلے گئے اور میں نے قومی تجربہ گاہوں میں ملازمتیں تلاش کیں۔ خوش قسمتی سے ناسا نے ایک امید افزا موقع فراہم کیا جو میرے پس منظر اور دلچسپیوں سے اچھی طرح مطابقت رکھتا تھا۔

میں ناسا میں ۳۰ برسوں سے مختلف عہدوں پر کام کر رہی ہوں۔ میں نے خلائی سائنس کے مختلف پروگراموں کے لیے ٹیکنالوجی کی ترقی پر کام کیا اور جیمس ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ پروجیکٹ کے لیے دو نئی ٹیکنالوجیز کی ترقی کا انتظام کیا۔ بعد ازاں میں خالص سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی سے تکنیکی بندوبست کی طرف منتقل ہو گئی اور قائدانہ رول ادا کیا۔

براہ کرم ہمیں امیریکن سینٹر میں منعقد اپنی ماسٹر کلاس’ ڈوئنگ گُڈ فار مین کائنڈ۔ دی ناسا وے‘ کے بارے میں بتائیں۔

میں نے اپنے کریئر میں ایک طویل سفر طے کیا ہے اور میں ہندوستان میں طلبہ کے ساتھ اپنی کہانی ساجھا کرنے کی خواہش مند ہوں تاکہ انہیں سائنس، ٹیکنالوجی یا خلائی پروگراموں میں کریئر کو اپنانے کی ترغیب دے سکوں۔ میں انہیں یہ سمجھانا چاہتی ہوں کہ یہ اتنا مشکل نہیں جتنا کہ معلوم ہوتا ہے۔ کوئی بھی اسے پختہ عزم اور کڑی محنت سے حاصل کر سکتا ہے۔

میں اچھا کام کرنے، خوشیاں بانٹنے اور دوسروں کی مدد کرنے کی اہمیت پر بھی زور دینا چاہتی تھی۔ یہ میرے تجربے سے آتا ہے جو ہم ناسا میں کرتے ہیں۔ اگر آپ اپنے علم اور تجربے کو بنی نوع انسان کی بہتری کے لیے استعمال کرسکتے ہیں تو اس سے آپ کو ایک الگ طرح کی طمانیت حاصل ہوتی ہے۔

آپ ان نوجوان لڑکیوں اور خواتین سے کیا کہنا چاہیں گی جو خلائی سائنس یا اسٹیم شعبہ جات میں کریئر بنانا چاہتی ہیں؟

میں انہیں اس کے لیے بھرپور حوصلہ افزائی کروں گی۔ اب ہم سائنس اور ٹیکنالوجی کی تعلیم میں بہت سی لڑکیوں اور خواتین کو دیکھتے ہیں۔ بہت سی خواتین انجینئرس اسرو کے ساتھ کام کرتی ہیں۔ یہ متاثرکن اور حوصلہ افزا ہے۔

ناسا ایک طویل عرصے سے اسٹیم تعلیم میں لڑکیوں کی شرکت کی حوصلہ افزائی کے تئیں پُرعزم ہے۔ ان کی حمایت اور انہیں بااختیار بنانے کے لیے متعدد پروگرام پیش کیے جا رہے ہیں۔ پہلے خواتین سائنسدانوں کی تصویریں کسی حد تک طبیعت میں الجھن پیدا کرنے جیسی نظر آتی تھیں۔ لیکن اب ایک خاتون سائنسداں یا انجینئر کی قبولیت بڑھ رہی ہے۔ اس طرح کی مثبت تبدیلیوں اور رول ماڈل کی کثرت کے ساتھ مجھے یقین ہے کہ نوجوان لڑکیاں اسٹیم شعبہ جات میں اپنے جذبہ صادق کے ساتھ آگے بڑھیں گی اور حوصلہ افزا ماحول میں خود کو با اختیار محسوس کریں گی۔


اسپَین نیوز لیٹر کو مفت میل پر منگوانے کے لیے لنک میں دیے گئے فارم کو بھریں: https://bit.ly/SubscribeSPAN



تبصرہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے