موسیقی کی نظامت

ہند نژاد امریکی سمیر پٹیل نے عملی زندگی میں میوزیکل کنڈکٹر بننے کا فیصلہ کرنے کے بعد کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔

برٹن بولاگ

September 2022

موسیقی کی نظامت

سمیر پٹیل جیکسن وِل سِمفنی آرکیسٹرا کی نظامت کرتے ہوئے۔(تصویر بشکریہ سمیر پٹیل)

سمیر پٹیل کے والدین نے اپنے بیٹے کے مستقبل کے بارے میں روایتی امیدیں باندھ رکھی تھیں۔پٹیل بتاتے ہیں ”بہت سارے ہند نژاد امریکی والدین کی طرح انہوں نے امید کی تھی کہ میں ڈاکٹر ، وکیل ، انجینئر یا تاجر ہی بنوں گا۔‘‘

مگر حالات نے الگ ہی رخ اختیار کر لیا ۔ لیکن اب ان کے والدین ان سے مایوس نہیں ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آج ۳۶ برس کے سمیر پٹیل امریکہ میں موسیقی کے پروگراموں کے معروف نوجوان ناظموں میں سے ایک ہیں ۔

سمیر پٹیل ان دنوں ’ سَن وَیلی میوزک فیسٹیول ‘ کے معاون ناظم کے طور پر  خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ انہوں نے حال ہی میں سان ڈیاگو سِمفنی کے معاون ناظم کے طور پر اپنے عہدے کی میعاد مکمل کی ہے۔ انہیں لگاتار تین برس تک ’ سولٹی فاؤنڈیشن یو ایس کریئر اسِسٹینس ایوارڈ‘ ملا جو ملک کے بہترین نوجوان ناظم کو دیا جاتا ہے۔

کسی ہند نژاد امریکی باشندے کے لیے واضح طور پر یہ ایک عام پیشہ نہیں ہے مگر آج سے ڈیڑھ پشت قبل ممبئی میں پیدا ہونے والے ایک دیگر مشہور و معروف ہند امریکی ناظمِ موسیقی زوبِن مہتہ نے اس میدان میں اپنا نام ضرور روشن کیا تھا۔ پٹیل کہتے ہیں ” حتیٰ کہ ہمارے خاندان کے وہ دوست جو مغربی کلاسیکی موسیقی سے بہرہ ور نہیں ہیں وہ بھی انہیں جانتے اور پہچانتے ہیں۔‘‘

ان کے والدین گجراتی نسل سے تعلق رکھنے والے ہندوستانی تھے جن کی پیدائش کینیا میں ہوئی تھی اور وہ وہیں پلے بڑھے۔پٹیل کے والد طب کا مطالعہ کرنے کے لیے ممبئی آئے اور پھر ۱۹۷۰ ءکی دہائی کے اواخر میں اپنی اہلیہ کے ساتھ امریکی ریاست مشی گن کے سب سے بڑے شہر ڈیٹرائٹ میں بس گئے جہاں انہوں نے طب کے شعبے میں اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا ۔

مِشی گن میں پٹیل اور ان کے بھائی کی پرورش عام امریکی ماحول میں ہوئی۔وہ سرکاری اسکول جاتے اور کھیلوں میں ٹینس ، باسکیٹ بال اور ساکر کھیلا کرتے۔ وہ بتاتے ہیں کہ ان کے والدین موسیقی میں خاص طور سے کوئی دلچسپی نہیں لیا کرتے تھے۔ مگر انہوں نے اپنے بیٹوں کو موسیقی سیکھنے کی اجازت دی۔ پٹیل بتاتے ہیں ”ہمارے والدین نے اسے ہمارے لیے ایک شوق کو پورا کرنے اور ایک مضمون کا مطالعہ کرنے کا موقع خیال کیا۔

پٹیل نے پیانو کی پڑھائی تو کی مگر انہیں یہ کچھ زیادہ اہم محسوس نہیں ہوئی ، لہٰذا اس میں ان کی دلچسپی بھی زیادہ نہیں رہی۔پھر ۱۳ یا ۱۴ برس کی عمر میں ان کے ایک عمر دراز اطالوی استاد نے ۱۹ ویں صدی کے پولینڈ کے ایک نغمہ نگار فریڈرک چوپِن نے بارے میں انہیں بتایا ۔ وہ کہتے ہیں ”یہ میرے لیے واقعی روشنی کے بٹن دبانے جیسا تجربہ تھا جو حسن و فن سے بڑا تعارف ثابت ہوا۔‘‘

اس کے بعد پٹیل نے کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ انہوں نے مغربی کلاسیکی موسیقی میں خود کو غرق کر دیا۔انہوں نے اپنے اسکول بینڈ میں حصہ لیا جہاں ان کے بینڈ لیڈر نے انہیں ہر ہفتے مختلف نغمہ نگاروں کی ریکارڈنگ دینا شروع کی۔ اس سے انہیں وسیع طور پر کلاسیکی موسیقی کی تعلیم ملی۔انہوں نے میوزک سمر کیمپمیں بھی شرکت کی۔ ہائی اسکول کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے اَین آربر شہر میں واقع یونیورسٹی آف مِشی گنمیں داخلہ لیا جہاں سے انہوں نے آرکیسٹرا کی نظامت کے شعبے میں بیچلر اور ماسٹرس ڈگری حاصل کی۔ہر سال موسم گرما میں وہ ماسٹر کلاسیز کے لیے یورپ کے مختلف ملکوں کا دورہ کیا کرتے۔

سَن ویلی سمر سِمفنی کے معاون ناظم میر پٹیل(مرکز میں)آرکیسٹرا فیسٹیول ۲۰۱۸ کے فیملی کنسرٹ میں آرکیسٹرا کی نظامت کرتے ہوئے۔ (تصویر بشکریہ سمیر پٹیل)

اس کے بعد انہوں نے موسیقی کے پروگراموں کے ناظم کے طور پر اپنا کریئر شروع کیا۔ سب سے پہلے انہوں نے مسا چیوسٹس کے بوسٹن میں واقع بوسٹن فِل ہارمونک آرکیسٹرا کے ساتھ معاون ناظم کے بطور کام کیا ۔اس کے بعد انڈیانا میں فورٹ وین فِل ہارمونک میں معاون ناظم کے بطور خدمات انجام دیں ۔پھر ۲۰۱۵ میں موسم خزاں کے شروع ہونے کے ساتھ ہی انہوں نے جنوبی کیلیفورنیا میں سان ڈیاگو سِمفنی میں معاون ناظم کے بطور اپنی خدمات فراہم کرنی شروع کیں۔پٹیل بہت سارے آرکیسٹرا کے لیے مہمان ناظم بھی بن جاتے ہیں۔ وہ موسیقی کی تعلیم کی وکالت کرتے ہیں اورامریکہ بھر میں موسیقی کی تقاریب، موسیقی کے پروگرام اور نوجوانوں کے لیے منعقد کیے جانے والے آرکیسٹرا میں طلبہ کے ساتھ پڑھنے اور پڑھانے سے لطف اندوز بھی ہوتے ہیں۔

ان کی زندگی کا مقصد کسی بڑے آرکیسٹرا میں موسیقی کا ہدایت کار بننا یا میر ناظم بننا ہے۔ وہ کہتے ہیں ”میں چاہتا ہوں کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک مغربی کلاسیکی موسیقی پہنچاؤں۔‘‘

جنوبی کیلیفورنیا میں اپنی اہلیہ شَینن اور اپنے بیٹے دیون کے ساتھ رہنے والے پٹیل امریکی زندگی کی رنگا رنگ ثقافت کا ایک حصہ بن چکے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں ”میرا پس منظر مہجری ہے ، میں نے امریکہ میں تربیت حاصل کی۔ جب کہ میری اہلیہ امریکی شہری ہیں ۔مگر اس کے ساتھ مجھے اپنے ہند نژاد ہونے پر بھی ناز ہے ۔ میں جب بھی بھارت جاتا ہوں تو میں خود کو اس کا ایک حصہ محسوس کرتا ہوں ۔ اور جب میں گجرات میں اپنے دادا سے ملنے ان کے آبائی گاؤں کا دورہ کرتا ہوں تو مجھے بہت فخر محسوس ہوتا ہے۔‘‘

برٹن بولاگ واشنگٹن ڈی سی میں مقیم ایک آزاد پیشہ صحافی ہیں۔

 

اس مضمون کی پہلے پہل اشاعت نومبر۔دسمبر ۲۰۱۸ء میں عمل میں آئی۔



تبصرہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے