آبی خطوں کا تحفظ

ساحلی اور زمینوں سے گھرے آبی خطے امریکہ میں ۵ اعشاریہ ۵ فی صد کا احاطہ کرتے ہیں۔ اس مضمون میں جانیں کہ امریکی ریاستی اور وفاقی حکومتیں کس طرح ان کا تحفظ کرتی ہیں۔

نویلانی کرشنر

February 2023

آبی خطوں کا تحفظ

۲۰۱۴ء میں فلوریڈا کے ڈیلرے ساحل پر واقع واکوڈا ہیچی نامی آبی علاقے میں ایک بطخ اپنے بچے کو دیکھ رہی ہے۔(©وِلفریڈ ولی)

آبی خطوں کے عالمی دن کے  موقع پر اور ہر دن، امریکہ آبی خطوں کے ساتھ اپنی وابستگی کا مظاہرہ کرتا ہے۔

آبی خطے ہرجگہ، ساحلی اور ساحلوں سے دور علاقوں، دونوں جگہوں پر کرہ ارض کی عالمگیر صحت اور  اس کے باسیوں کے لیے اہم ہیں۔ اِن کا شمار کرہ ارض  کے مفید ترین ماحولیاتی نظاموں میں ہوتا ہے۔ یہ پینے کا صاف پانی مہیا کرتی ہیں، موسم میں باقاعدگی پیدا کرتی ہیں، اور متنوع ماحولیاتی نظام چلاتی ہیں۔ آبی خطے پانی کو جذب کرکے اسفنج کے طور پر کام کرتے ہوئے، سیلابوں کی روک تھام میں قدرتی رکاوٹ کا کام دیتے ہیں۔

۲۰۱۴ء میں فلوریڈا کے ڈیلرے ساحل پر واقع واکوڈا ہیچی نامی آبی علاقے میں ایک بطخ اپنے بچے کو دیکھ رہی ہے۔(©وِلفریڈ ولی)

آبی خطوں کی بین الاقوامی اہمیت کے بارے میں کنوینشن  (جو رامسار کنوینشن بھی کہلاتا ہے) کے مطابق، ساحلی اور ساحلوں سے دور علاقوں کی آبی زمینوں کا رقبہ ۱۲ اعشاریہ ۱ ملین مربع کلومیٹر پر مشتمل ہے جو کہ لگ بھگ کینیڈا کے رقبے کے برابر ہے۔

دنیا میں موجود جانوروں کی ۴۰ فی صد اقسام آبی خطوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں جبکہ آبی خطوں کے علاقوں میں ہر سال مچھلیوں کی ۲۰۰اقسام دریافت کی جاتی ہیں۔

ساحلی اور ساحلوں سے دور آبی خطے  امریکہ کے تقریباً ۵ اعشاریہ ۵  فی صد رقبے پر پھیلی ہوئے ہیں۔ ماحولیاتی تحفظ کے ادارے (ای پی اے) کے تخمینے کے مطابق اِن میں سے ۹۵ فی صد آبی خطوں  میں تازہ پانی ہے جب کہ باقی  پانچ فی صد سمندری یا سمندر میں گرنے والے دریائی دہانوں پر مشتمل ہے۔

لیکن رامسار کنوینشن نے یہ تخمینہ بھی لگایا ہے کہ اٹھارویں صدی کی پہلی دہائی سے لے کر اب تک دنیا کی ۹۰ فی صد آبی خطے ختم ہو چکے  ہیں اور جو باقی بچ رہے  ہیں اُن کا جنگلات کے مقابلے میں تین گنا جلدی ختم ہونے کا خطرہ ہے۔

۱۹۸۷ء میں امریکی ریاست نیو جرسی نے “تازہ پانی والے آبی خطوں کے خالص پن اور سالمیت کو، بے تکے، غیر ضروری یا غلط ردوبدل یا چھیڑ چھاڑ سے محفوظ رکھنے کے لیے” تازہ پانی والے آبی خطوں  کا قانون‘‘منظور کیا۔ جزوی طور پر اِس کا مقصد دریائی دہانوں کو پچانے میں مدد کرنا اور ایسے ترقیاتی منصوبوں کو روکنا تھا جو یہاں پھلنے پھولنے والے متنوع ماحولیاتی نظام کو تباہ کرتے ہیں۔

فلوریڈا کے بوئنٹن بیچ کے گرین کیے نیچر سینٹر اینڈ ویٹ لینڈ میں ایک ’بِگ مینڈک‘ (©سوزی مست) لگ بھگ ۱۰ سینٹی میٹر لمبا ’’ دلدلی کھچوا‘‘ شمالی امریکہ کا سب سے چھوٹا کچھوا ہے۔(یو ایس ایف ڈبلیو ایس/روزی ویلوناس)

۴۸ زیریں ریاستوں میں، فلوریڈا میں قدرتی طور پر بننے والے سب سے زیادہ آبی خطے پائے جاتے  ہیں۔ فلوریڈا کی ریاست گندے پانی والے پرانے علاقوں کو بھی آبی خطوں  کی شکل میں تبدیل کرکے محفوظ بنا  رہی ہے۔

پام بیچ کاؤنٹی کے پانی کی سہولتوں کے محکمے نے ۲۰ہیکٹر پر پھیلے گندے پانی کے ایک تالاب کو آبی زمین کے محفوظ علاقے میں تبدیل کر دیا ہے۔ ۱۹۹۶ء میں عوام کے لیے کھولے جانے والے واکوڈا ہیچی نامی آبی خطے کے اِس تحفظ شدہ علاقے پر پرندوں کی ۱۷۸سے زائد انواع پائی جاتی ہیں اور یہاں پرندوں کے شائقین کو خوش آمدید کہا جاتا ہے۔

زیریں ۴۸ ریاستوں میں دوسرے نمبرکے  سب سے زیادہ آبی خطوں  والی ریاست، منیسوٹا ہے۔ یہ ریاست وفاقی، ریاستی، اور مقامی قوانین کے تحت اپنے آبی خطوں کا تحفظ کرتی ہے۔ ۱۹۷۲ء کا صاف پانی کا قانون وفاقی حدود میں آنے والی آبی زمینوں کو تحفظ فراہم کرتا ہے جبکہ منیسوٹا کا آبی زمینوں کے تحفظ کا قانون نجی پانیوں کی نگرانی کرتا ہے اور انہیں تحفظ فراہم کرتا ہے۔

منیسوٹا میں ایک مرغابی اپنے چوزوں کے ساتھ جنگلی حیات کے تحفظ والے آبی علاقے میں تیر رہی ہے۔(©شٹر اسٹاک)

ماحولیاتی تحفظ کے ادارے کے مطابق’’آبی زمینیں ایک ایسے زمینی منظر نامے کی اہم خصوصیات ہیں جو لوگوں کے لیے اور مچھلیوں اور جنگلی حیات ‘‘کے لیے بے شمار خدمات فراہم کرتی ہیں۔ یہ بیش قیمت امور آبی زمینوں کی منفرد قدرتی خصوصیات کا نتیجہ ہیں۔

تشکر برائے متن ShareAmerica


ٹَیگس

تبصرہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے