موسمیاتی تبدیلی:عملی اقدام کا وقت

موسمیاتی تبدیلی پر ایک بین حکومتی پینل کی رپورٹ بتاتی ہے کہ کیسے انتہائی آتش زدگی، ہدت اور سیلاب ہمارا مقدر ہوں گے اگر ہم نے ابھی عملی اقدامات نہیں کیے۔

نویلانی کرشنر

September 2021

موسمیاتی تبدیلی:عملی اقدام کا وقت

۲۲مارچ ۲۰۱۹ کو موزمبیق کے ناما ٹنڈا میں ایڈائی نامی سمندری طوفان سے تباہ ہونے والی سڑک کا ایک منظر۔ سمندروں میں اضافی گرمی اس طوفان کی شدت میں اضافے کا باعث بنی۔©سوانگیرائی موکوازی اے پی امیجیز

موسمیاتی تبدیلیوں کے بارے میں عملی اقدامات کرنے کا وقت اب ہے

موسمیاتی تبدیلی سے متعلق ایک بین حکومتی پینل نےاپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اگر ہم فوری اقدامات نہیں کرتے تو شدید قسم کی آتش زدگی، حدت اور سیلاب ہمارا مستقبل ہیں ۔

اقوام متحدہ کی ایک نئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انسانوں کے پیدا کردہ آب و ہوا کے بحران میں، چاہے دنیا تیار ہو یا نہ ہو تیزی سے شدت آتی جا رہی ہے۔

موسمیاتی تبدیلی پر بین الحکومتی پینل (آئی پی سی سی) کی تازہ ترین رپورٹ یہ واضح کرتی ہے کہ موسمیاتی تبدیلی پہلے ہی ایک بحران بن چکی ہے۔

وزیر خارجہ اینٹونی بلنکن نے چار حصوں میں جاری کی جانے والی اس رپورٹ کے پہلے حصے کے اجراء کے موقع پر ۹ اگست کو اپنے بیان میں یہ بات کہی کہ

آئی پی سی سی کی ۲۰۲۱ء کی رپورٹ دنیا بھر کے ۲۳۴سائنس دانوں نے تیار کی ہے۔ اِن سائنس دانوں نے ہمارے سیارے کے مستقبل کے بارے میں نتائج اخذ کرنے کے لیے ۱۴۰۰۰ سے زائد مطالعات کا تجزیہ کیا۔

انتہائی اہم نتیجہ: ہماری آب و ہوا ۱۸۵۰ء کے بعد سے انسانی سرگرمیوں سے مرتب ہونے والے اثرات کی بنا پر تیزی سے بدل رہی ہے۔ یہ اثرات پہلے ہی ہمارے سیارے کوانتہائی شدید اور ناقابل واپسی طریقوں سے بدل چکے ہیں۔ اگر ہم کاربن ڈائی آکسائیڈ اور دیگر گرین ہاؤس گیسوں کے عالمی اخراجوں میں تیز رفتاری سے کمی نہیں لائیں گے تو یہ طریقے بد سے بدتر شکل اختیار کرتے چلے جائیں گے۔

رپورٹ کے نتائج کے ذریعے موسمیاتی تبدیلی کی رفتار کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ آگ، شدید گرمی اور خشک سالی ہمارے ناگزیر مستقبل کی تصویر کا حصہ بن جائیں گے۔ اگر دنیا نے فوری طور پر اجتماعی اقدامات نہ اٹھائے تو مذکورہ عوامل مزید شدید اور بڑے پیمانے پر رونما ہوتے رہیں گے۔

سائنس دانوں نے اس رپورٹ میں مندرجہ ذیل حقائق خصوصی طور پر بیان کیے ہیں:۔

جب سے ہم نے ریکارڈ رکھنا شروع کیا ہے، اس وقت سے گزرنے والی ہر دہائی کے بعد آنے والی ہر دہائی گرم سے گرم تر رہی ہے۔

عالمی درجہ حرارت ۱۹۰۰-۱۸۵۰ کے اوسط درجہ حرارت کے مقابلے میں تقریبا ۱.۱ ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ ہو گیا ہے۔

اگر گزشتہ دو ہزار برسوں کے کسی بھی ۲۰ سال کے عرصے کو لیا جائے تو اس کے مقابلے میں گزشتہ ۵۰ برسوں میں درجہ حرارت میں زیادہ تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

گذشتہ ۱۵۰ برسوں کے مقابلے میں بحیرہ آرکٹک میں برف کی مقدار کم ترین سطح پر آگئی ہے۔

کم از کم گذشتہ ۳۰۰۰ برسوں کے مقابلے سمندروں میں پانی کی سطح تیزی سے بلند ہوتی جارہی ہے۔

پوری دنیا میں برفانی گلیشیئروں کی تعداد اتنی تیز رفتاری سے گھٹ رہی ہے جس کی کم از کم گذشتہ ۲۰۰۰ سال میں کوئی مثال نہیں ملتی۔

دنیا اگلی چند دہائیوں میں عالمی درجہ حرارت میں ۱اعشاریہ ۵ درجہ سینٹی گریڈ کے اضافے کی جانب انتہائی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

کرہ ارض کے گرمی میں اضافے پر مندرجہ ذیل طریقوں سے قابو پا کر ہم اپنے موسموں میں آنے والی بدترین تبدیلیوں کو روک سکتے ہیں:۔

جان لیوا گرمیوں کی لہروں سے جولوگ متاثر ہوں گے ان کی تعداد کو محدود کرنا۔

آنے والے سینکڑوں ہزاروں برسوں کے دوران سمندر میں بلند ہوتی پانی کی سطح کو کم کرنا۔

خشک علاقوں میں آنے والی خشک سالیوں کی شدت میں کمی لانا۔

مستقبل میں معدومی کا شکار ہونے والے جانوروں اور پودوں کی انواع کی تعداد کو کم سے کم کرنا۔

پوری دنیا میں سمندری چٹانوں کو ختم ہونے سے بچانا۔

ان سب مسائل کو ختم کرنے کا کام شروع کرنے کے لیے، پوری دنیا کے ممالک کوموسمیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے ایک وحدت کی صورت میں اکٹھا ہونا ہوگا۔

بلنکن نے کہا’’ایسے میں جب دنیا کے ممالک گلاسگو میں ہونے والی اقوام محدہ کی موسمیاتی تبدیلی کی چھبیسویں کانفرنس، (کوپ ۲۶) کی تیاری کر رہے ہیں، یہ رپورٹ اس امر کی ایک واضح یاد دہانی ہے کہ سائنس کو ہمیں اپنےعمل کی رہنمائی کرنے کی اجازت دینا چاہیے۔ یہ لمحہ عالمی رہنماؤں، نجی شعبے اور افراد سے فوری طور پر مل کر کام کرنے تقاضہ کرتا ہے۔ اس کے علاہ یہ لمحہ آنے والی دہائیوں اور ان کے ‘‘بعد اپنے سیارے کو اور اپنے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے درکار تمام کام کرنے کا تقاضہ بھی کرتا ہے۔‘‘

تشکر برائے متن:شیئر امیریکہ



تبصرہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے