سرطان کی چست درست تشخیص

ملینیم الائنس اعزاز یافتہ اَیندرا سسٹم کا سَرو اَیسٹرا نامی آلہ مصنوعی ذہانت کا استعمال کرکے سروائیکل کینسرکی درست، تیز اور سستی تشخیص کرتا ہے۔

رنجیتا بسواس

March 2020

سرطان کی چست درست تشخیص

درش نٹراجن اَیندرا سسٹم کے سَرو اَیسٹرا کی تین قسم کی مصنوعات اَیندرا آئی ایس، آیندرا ویزن ایکساور اَیندرا ایسٹرامجموعوں کے ساتھ۔ تصویر بہ شکریہ آدرش نٹراجن/گیٹی امیجیز

انڈیا دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں سروائیکل کینسر(خواتین میں اندامِ نہانی کا سرطان) کے مریضوں کی تعداد دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے۔کینسر سے متعلق تحقیق پر کام کرنے والی ایجنسی گلوبوکَینکی ۲۰۱۸ ء کی ایک رپورٹ کے مطابق ملک سروائیکل کینسر کے نئے معاملات میں تیسرے نمبر پر آتا ہے اور یہ کسی بھی قسم کے سرطان سے ہونے والی اموات میں چوتھی سب سے بڑی وجہ ہے۔تاہم سرطان کی یہ قسم پوری طرح قابلِ علاج ہے بشرطیکہ اس کی تشخیص ابتدائی مرحلے ہی میں ہو جائے۔اس لیے ایک سستا اور مرض کی تیز رفتار تشخیص کرنے والا آلہ اس طرح کے معاملات سے نمٹنے میں بہت کامیاب ثابت ہو سکتا ہے۔

سَرواَیسٹراایسا ہی ایک آلہ ہے جو نہ صرف سستا ہے بلکہ دور دراز اور دیہی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کے لیے بھی دستیاب ہے۔ مصنوعی ذہانت کو بروئے کار لاکر کام کرنے والی بینگالورو میں واقع کمپنی اَیندرا سِسٹمس نے اسے تیار کیا ہے۔یہ آلہ مہلک بیماریوں کے شکار مریضوں کو ان کے بستر کے قریب ہی تشخیصی حل فراہم کرنے پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔ کمپنی کے بانی آدرش نٹراجن کہتے ہیں ”ہم لوگ ان تمام سنگین بیماریوں کے لیے ایک کمپیوٹیشنل پیتھولوجی پلیٹ فارم(اس میں ڈیپ مشین لرننگ،تصویر کا تجزیہ اور بِگ ڈیٹا انٹیگریشن کی مجموی طاقت کا استعمال کرکے درست طور پر تشخیص کی جاتی ہے)تشکیل دے رہے ہیں جہاں مرض کی تشخیص ڈیپ لرننگ تکنیک کا استعمال کرکے کی جاتی ہے۔ سرو ایسٹراکا مقام اس طرح کی مصنوعات میں پہلا ہے۔“

مصنوعی ذہانت اور مشین لرننگ میں انسانوں کے علمی افعال کی نقل کے لیے کمپیوٹر کا استعمال کیا جاتا ہے۔مشینیں ذہانت کے ساتھ حساب و شمار پر مبنی کاموں کو انجام دیتی ہیں۔اس تکنیک کا ایک نہایت ذہین اور قابل اثر استعمال صحت کی دیکھ ریکھ کے شعبے میں تشخیص،جائزہ اور علاج میں مدد کے لیے کیا جاتا ہے۔ نٹراجن کہتے ہیں ”صحت کی دیکھ بھال کے شعبے کے لیے یہ انتہائی اہم ہے۔یہ ڈیپ لرننگ سسٹم کا استعمال کرکے زندگیوں کے بچانے سے متعلق ہے۔“

واضح رہے کہ نٹراجن کو صحت کی دیکھ بھال، خاص طور پر سرطان کی تشخیص میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کے شعبے میں ابتدائی علم برداروں میں سے ایک خیال کیا جاتا ہے۔ ہند میں سروائیکل کینسر کے حوالے سے انہیں محسوس ہوتا ہے کہ خطرے کے زمرے میں رہنے والی تمام خواتین کا احاطہ کرنے کے لیے سب کی چھان بین درکارہے۔ لیکن اس میں اعلیٰ درجے کے بنیادی ڈھانچے اور مہارت کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔

نٹراجن کا خیال یہ بھی ہے کہ سروائیکل کینسر کی ابتدائی تشخیص کے لیے کسی بھی طریقے کو آسان، سستا اور بہ آسانی ایک جگہ سے دوسری جگہ لانے،لے جانے کے قابل ہونا چاہئے تاکہ اسے کسی بھی ملک کے کسی بھی حصے میں استعمال کیا جا سکے۔وہ بتاتے ہیں ”ہماری جیسی مختلف ٹیکنالوجی نظام کے اندر موجود دباؤ سے آزاد کرنے میں مدد دینے کے کام آتی ہے جو تمام افراد کی چھان بین کی ضرورت والی جگہوں پر اچھے نتائج کی کمی کی بنیادی وجوہات میں سے ہوتی ہیں۔“

اَیندرا کو شروع کرنے سے پہلے اس ٹیم نے بہت سارے معالجین، تشخیصی تجربہ گاہوں کے مالکان، ماہرینِ امراضِ نسواں اور دیگر افراد سے ملاقات کی۔ اس سے کمپیو ٹیشنل پیتھولوجی سسٹم کو تصور میں لانے، ڈیزائن کرنے اور اسے فروغ دینے میں ان ملاقاتوں نے بڑی مدد پہنچائی۔

اس سسٹم کے مؤثر ہونے کی صلاحیت کو برقرار رکھنے کے لیے اَیندرا نے سرطان کے ایک معروف اسپتال، ایک عام اسپتال، غیر منافع بخش تنظیموں اور تشخیصی تجربہ گاہوں کے ساتھ کام کیا۔

سروائیکل کینسر کی چھان بین اور تشخیص خاص طور پر ہند کے دیہی علاقوں میں کافی دشوار گزار، وقت طلب اور مہنگی ثابت ہو سکتی ہے۔سرو ایسٹراایک ہی مرکز (پوائنٹ آف کیئر سینٹر)پرسرطان کی تشخیص کی بہتر تکنیک کا استعمال کرکے اس طریق عمل کو آسان بنا دیتا ہے۔ خواتین مقامی کلینک یا ابتدائی صحت مراکز میں جا سکتی ہیں اور معیاری پَیپ اسمیئر(اندامِ نہانی سے حاصل شدہ خلیوں کی جانچ تاکہ اس بات کا پتہ لگایا جاسکے کہ کسی مخصوص عورت میں کہیں سروائیکل کینسر سے متعلق علامات تو نہیں)کے ذریعہ سروائیکل کینسر کے لیے چھان بین کروا سکتی ہیں۔سرو ایسٹرا تین قسم کی مصنوعات (اَیندرا آئی ایس، اَیندرا وژن ایکس اور اَیندرا اَیسٹرا)کا مجموعہ ہے جو تیز اور درست ٹسٹ نتائج کے لیے مربوط انداز میں کام کرتا ہے۔

ایک مرتبہ جب پَیپ سیمپلیکجا کر لیا جاتا ہے تو اسے اَیندرا آئی ایس آٹو میٹیڈ اسٹینر سے گزارا جاتا ہے۔پھراس داغدار نمونے کا اَیندرا وژن ایکس استعمال کرکے تجزیہ کیا جاتا ہے تاکہ اس کی ایک انتہائی صاف تصویر سامنے آسکے۔ اب اس کا استعمال ٹیلی پیتھولوجی (فون وغیرہ کے ذریعہ امراضیات کی سہولت)کے لیے کیا جاسکتا ہے یا پھر اسے تیسرے سسٹم،اَیندرا اَیسٹراسے گزارا جا سکتا ہے۔ یہ مصنوعی ذہانت سے متصف ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جسے تیز اور زیادہ بہتر تشخیص کے لیے

کمپیوٹیشنل پیتھو لوجی کی سہو لت فراہم کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔اس کے بعد اس خاتونِ مخصوص کی ایک رپورٹ تیار کی جاتی ہے اور فی الفور خاتون کے حوالے کر دی جاتی ہے۔

نٹراجن بتاتے ہیں ”آزمائشی پروجیکٹ کے طور پر ہم نے ۶ ماہ کی مدت میں ۶۰۰ سے زیادہ خواتین کا احاطہ کیا۔تجربے کی کامیابی کے بعد اب ہم اس کی خاطر خواہ وسعت کے لیے کوشاں ہیں۔“

اَیندرا سسٹمس کو ملینیم الائنس (حکومت ِ ہند، یو ایس ایڈ اور دیگر سمیت شراکت داروں کی ایک انجمن) اور ہند۔ امریکہ سائنس اور ٹیکنالوجی فورم (ایک خود مختار دو طرفہ ادارہ جس کی کفالت ہند اور امریکہ کی حکومتیں کرتی ہیں)کی جانب سے گرانٹ بھی ملا ہے۔

نٹراجن بتاتے ہیں کہ اَیندرا سسٹمس اب بازار میں اپنی موجودگی درج کرانے پر توجہ مرکوز کر رہا ہے۔ وہ کہتے ہیں ”ہمارا مقصد ڈیپ ٹیکنالوجی کی مدد سے صحت کی معیاری دیکھ بھال کی سہولت کو سب کی دست رس میں پہنچانا ہے۔ہم ایک ایسی دنیا بنانا چاہتے ہیں جہاں مشینیں صحت کی مساوی دیکھ بھال کا نظام بنانے میں انسان کے ساتھ مل کر کام کرتی ہوں۔“

رنجیتا بسواس کولکاتہ میں مقیم ایک صحافی ہیں۔ وہ افسانوی ادب کا ترجمہ کرنے کے علاوہ مختصر کہانیاں بھی لکھتی ہیں۔



تبصرہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے