ایڈس متاثرین کی مدد

یو ایس ایڈ اور ناکو طبقات کی قیادت والے نگرانی پروگرام کے ذریعہ ایچ آئی وی دیکھ بھال کو محروم طبقات کے لیے ممکن بنا رہے ہیں۔

نتاشا ملاس 

August 2023

ایڈس متاثرین کی مدد

یوایس ایڈ اور ناکو کے طبقات پر مبنی قیادت والے پروگرام لوگوں کو اس بات کا موقع دیتے ہیں کہ وہ محروم طبقات تک ایچ آئی وی خدمات بہتر طور پر بہم پہنچانے کے سلسلے میں ماحول سازی میں شرکت کریں۔(تصویر بشکریہ ریتا پرساد)

اگر ایچ آئی وی کی بعض اہم خدمات جیسے تحفظ، جانچ اور علاج سے بعض لوگ مسلسل کوششوں کے باوجود محروم رہیں تو ایسی صورت میں نگرانی پروگرام کی مدد سےرکاوٹوں کی نشاندہی کر کے بہتر حل نافذ کیے جا سکتے ہیں۔ امریکی ایجنسی برائے بین الاقوامی ترقی (یو ایس ایڈ) نےبھارت کی قومی تنظیم برائے ایڈس کنٹرول (ناکو)اور دیگر حصہ داروں کے اشتراک سے طبقات کی قیادت والے ایک نگرانی پروگرام کا آغاز کیا ہے جس کا نفاذ سَتّوا کنسلٹنگ نامی تنظیم  کر رہی ہے۔مذکورہ نگرانی پروگرام کا مقصد ایچ آئی وی خدمات کے مددگار عناصر اوررکاوٹوں کی تفہیم اور ان کے نتائج کو اہم آبادی میں بہتر بنانا ہے۔ اس سلسلے میں نئی دہلی، مہاراشٹرا اور تلنگانہ میں پائلٹ پروگرام کا آغاز کیا گیا ہے۔

عوام کے لیے، عوام کے ذریعہ

ان نگرانی پروگراموں کا مقصد طبقات کے اشتراک سے ایچ آئی وی دیکھ بھال خدمات اور مریضوں کے تجربات کو مزید بہتر بنانے کے لیے مشترکہ فریم ورک بنانا ہے۔یو ایس ایڈ ۔ انڈیا میں ایچ آئی وی کی تکنیکی مشیر ریتا پرساد اس کی وضاحت کرتی ہوئی کہتی ہیں ’’ ہم آبادی کے جس گروہ کے ساتھ کام کرتے ہیں وہ اصل میں معاشرے کا انتہائی محروم طبقہ ہے۔ اس طبقے کو معاشرتی ، معاشی اور ثقافتی رکاوٹوں جیسے بدنامی اور تفریق کا سامنا ہے۔ ان سے ان کی صحت پر گہرے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔  ایسے میں اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ ان لوگوں کے لیے ایچ آئی وی خدمات کو ان کی ضروریات کو ذہن میں رکھتے ہوئے مزید بہتر اور مؤثر بنایا جائے۔‘‘

طبقات کی قیادت والے نگرانی پروگراموں کے کئی فوائد ہیں مثلاًطبقات صرف خدمات حاصل کرنے کے بجائے خود اس پورے عمل میں برابر کی شریک ہوتے ہیں۔ پرساد انکشاف کرتی ہیں کہ ان نگرانی پروگراموں کی شروعات، قیادت اورنفاذ مقامی تنظیمیں، سول سوسائٹی گروہ، ایچ آئی وی  کے مریض اور متاثرہ گروہ خود کرتے ہیں۔ وہ ایچ آئی وی خدمات کے متعلق اعدادوشمار خود جمع کرتے ہیں، خود ہی حل تلاش کرتے ہیں اور ان کانفاذ بھی خود ہی کرتے ہیں ۔ پرساد بتاتی ہیں ’’ اس پورے عمل کے دوران سب سے خاص بات یہ ہے کہ اس میں مقامی مسائل کا مقامی طور پر ہی حل پیش کیا جاتا ہے۔‘‘

رکاوٹوں پر عبور پانا

طبقات کی قیادت والے نگرانی پروگرام کے سبب نہ صرف لوگوں کے رویوں میں مثبت تبدیلی واقع ہوئی ہے بلکہ طبقات اور خدمات فراہم کرنے والوں کے درمیان گفگتو بھی شروع ہوئی ہے۔پرساد کہتی ہیں’’ ہمیں میدانی سطح پر کئی بار کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ طبقات نے ہمیں بتایا ہے کہ خدمات فراہم کرنے والوں کے رویے اب پہلے کے مقابلے بہتر ہوئے ہیں ۔ اور مثبت گفگتو کے زریعہ کنڈوم کی عدم دستیابی اور جنسی طور پر منتقل ہونے بیماریوں کے علاج کے لیے  مخصوص کِٹس کی عدم دستیابی جیسے مقامی مسائل  حل ہوئے ہیں ۔‘‘

ستّوا کنسلٹنگ کی پروجیکٹ کی قیادت کرنے والی کِم ہاؤزل کہتی ہیں کہ نئی دہلی، مہاراشٹراور تلنگانہ میں چل رہے پائلٹ پروگراموں کی بدولت یہ بات سمجھ میں آنے لگی ہے کہ بدنامی اور تفریق ایچ آئی وی علاج میں کس طرح مانع ہیں۔ ستّوا کی صحت دیکھ بھال شریک تنطیم سواستی نے تین صوبوں میں تین بار طبقات کی قیادت والے نگرانی پروگرام چلائے ہیں جن کے تحت ۴۷۵کمیونٹی چمپیئنس  کو تربیت دی گئی، ۱۳ ہزار ایچ آئی وی مریضوں کا قومی ایڈس پروگرام کی رہنما خطوط کے حساب سے انٹرویو کیا گیا اور خدمات حاصل کرنے والوں کے فیڈ بیک کی روشنی میں ۱۱ ہزار ایکشن نکات طے کئے گئے۔ ا ن میں سے ۷۲ فی صد ایکن نکات کا مقامی سطح پر حل تلاش کیا گیا،نیزپروگرام شرکاء کونمایاں خدمات فراہم کرنے کے لیے ۸۴ بہترین خدمات فراہم کرنے والوں کی نشاندہی کی گئی۔طبقات کی قیادت والی نگرانی کے ذریعہ کمیونٹی چیمپئنس کے تعاون سے ایچ آئی وی تحفظ ، دیکھ بھال و علاج اور ٹی بی پروگرام پر عمل درآمد کیا گیا۔‘‘

نتاشا ملاس نیو یارک سٹی میں مقیم ایک آزادپیشہ  قلمکار ہیں ۔


اسپَین نیوز لیٹر کو مفت منگوانے کے لیے لنک میں دیے گئے فارم کو بھریں: https://bit.ly/SubscribeSPAN


ٹَیگس

تبصرہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے