بین ثقافتی گفتگو

ایک امریکی فلبرائٹ۔نہرو انگلش ٹیچنگ اسسٹنٹ نے زبان اور ثقافت کے توسط سے بھارت کی دریافت کا اپنا تجربہ شیئر کیا۔

انیسی ڈریمن

September 2023

بین ثقافتی گفتگو

انیسی ڈریمن ایک امریکی قلمکار ہیں جو ۲۰۲۲ءمیں فلبرائٹ۔نہرو انگریزی تدریسی معاون کے طور پر بھارت میں تھیں۔ (تصویر بشکریہ انیسی ڈریمن)

جب میں نے جنوری ۲۰۲۰ء میں پہلی بار بھارت کا دورہ کیا تو میں ثقافتی، لسانی اور تخلیقی طور پر خود  کو چیلنج کرنے کی خواہش رکھتی تھی ۔ میں اپنے  گوشہ عافیت سے باہر نکل کر لکھنا اور ادارتی کام کرنا چاہتی تھی۔ ادب  اور اس کی متنوع آوازیں، ایسا ذریعہ تھیں جس نے مجھے  دنیا کے بارے میں غلط فہمیوں پر سوال کھڑے کرنے اور انہیں   ختم کرنے میں  مدد کی۔ مجھے امید تھی کہ میرے تجربات بین ثقافتی  بات چیت کا بھی آغاز کر سکتے ہیں۔

جب  کو وِڈ۔۱۹ لاک ڈاؤن شروع ہوا تو میں جے پور میں تھی۔میں  شہر میں کسی کو نہیں جانتی تھی ، نہ میرے لیے رہائش کا کوئی نظم تھا اور نہ ہی میں وطن واپسی کی پرواز کا تحمل کر سکتی تھی۔ میں نے مواقع  سے فائدہ اٹھانے اور سخت محنت   کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس دوران میں نے اپنی یادداشت پر مبنی پہلا مسودہ ایک بیک پیکرس ہاسٹل میں لکھا۔ میں نے ’’دی کوارنٹائن  ٹرین‘‘ میں شمولیت اختیار کی ۔یہ  ایک ورچوئل تحریری گروپ ہے  جس میں بھارت  اور بیرون ملک کے ۹۰ سے زیادہ ارکان  ہیں۔ میں ایک مصنفہ کے طور پر پختہ ہوئی اور بھارتی ادب اور ثقافتوں  سے متعلق  اپنی فہم  میں اضافہ کیا  اور  آہستہ آہستہ ایک نامعلوم ملک میں ایک کمیونٹی کے ساتھ  گھل مل گئی ۔

شاعری فوٹو گرافی سے ملتی ہے

موسم گرما میں، میں نے امیریکن انسٹی ٹیوٹ آف انڈین اسٹڈیز(اے آئی آئی ایس)  کے  ہندی کورس میں داخلہ لیا، جس کا ہندی پروگرام جے پور سے چلایا جاتا ہے۔ ورچوئل کلاسز کا آغاز رات ۹ بجے ہوا کرتا اور ہمارے اساتذہ دیر رات تک گھر سے پڑھایا کرتے تاکہ ریاستہائے متحدہ امریکہ  میں طلبہ کے لیے ابتدائی ٹام زون کو ایڈجسٹ کیا جا سکے۔ میرا ماننا ہے کہ ثقافتی تال میل کے لیے زبان سیکھنا بہت ضروری ہے۔خاص طور پر  بھارت  کی طرح لسانی اعتبار سے متنوع ملک میں۔

میری ورچوئل کلاسز کے ختم ہونے کے اگلے دن، میں اپنی کتاب  کی ایڈیٹنگ اور مصنفین کی کمیونٹی سے قریب ہونے کےلیے گوا چلی گئی ۔ ہاسٹل میں سفید چائے بناتے ہوئے میں نے آنے والے مہمانوں کو کپ پیش کیے   اور اس طرح میری ملاقات دہلی کے ایک پورٹریٹ فوٹوگرافر بلویندر سنگھ سے ہوئی۔

رفتہ رفتہ  گفتگو  کے بعد ہم نے ایک دن کے لیے ایک ساتھ گوا کے ساحل کی دریافت  کے لیے ایک ا سکوٹر کرائے پر لیا اور شاعری اور فوٹو گرافی میں تعاون کرنے کا فیصلہ کیا۔ فریموں کے درمیان  ہماری گفتگو پیشے اور ذات کے حوالے سے جاری رہی۔ دوستی کی ابتدائی تلاش فیصلے کا سامنا کرنے، جذبات کا اظہار کرنے اور پرواز کی تصویر کشی کے ارد گرد گفتگو میں تیار ہوئی۔ روشنی کی تکنیکوں اور مسلسل پوچھ گچھ کے ذریعے ہم نے دریافت کیا کہ زمین سے پاؤں اٹھائے بغیر اڑنے کا کیا مطلب ہے۔ اس کے بعد  بلویندر  چیدہ چیدہ تصویریں شیئر کریں گے اور میں اپنے الفاظ کو موضوع سے متعلق شاعری میں ڈھال دوں گی۔

پیچیدگیوں کی تفہیم

۲۰۲۲ء میں   کولکاتہ میں اپنے فلبرائٹ۔نہرو ا نگریزی تدریسی اسسٹنٹ شپ کے تجربے کے دوران ،  میرا ہدف  کلاس روم میں  ممکنہ حد تک   زیادہ سے زیادہ تخلیقی سرگرمیاں شامل کرنا تھا: افعال  کی ایکٹنگ کرنا ، امریکی گانے گانا، بڑے ہونے کے بارے میں کتابچہ لکھنا اور سیکھنے کی خاطر  غلطیوں کو گلے لگانے کا طریقہ سیکھنا۔ میں ایک  ہمدرد   کلاس روم بنانا چاہتی تھی   جہاں نوجوان لڑکیوں کے تخیل کی حوصلہ افزائی کی جائے۔

ہنگامہ خیز  دور  میں بھارت  کا سفر، مصنفین سے ملاقات، مختلف پس منظر سے تعلق رکھنے والے فنکاروں کے ساتھ تعاون  اور بنگلہ میڈیم اسکول میں انگریزی  کی تدریس  نے بھارت  کی پیچیدگی کے بارے میں میری  فہم میں اضافہ کیا ہے ۔ مجھے یقین ہے کہ فن اور گفتگو ثقافتوں اور ممالک کے درمیان باہمی افہام و تفہیم کے بیج بو سکتے ہیں۔ میں جہاں بھی جاؤں گی ، میں تخلیقی تحریر اور ہمدردانہ بین ثقافتی گفتگو کے اپنے  جنون کو مربوط کروں گی ۔

انیسی ڈریمن  ایک ٹریول رائٹر ، شاعرہ اور  آرزومند ناول نگار ہیں۔ وہ ۲۰۲۲ء میں بھارت میں فلبرائٹ۔ نہرو انگریزی ٹیچنگ اسسٹنٹ تھیں۔


اسپَین نیوزلیٹر کو مفت میں میل پر منگوانے کے لیے لنک میں دیے گئے فارم کو بھریں: https://bit.ly/SubscribeSPAN



تبصرہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے