موسمیاتی تبدیلی کے دور میں قصہ گوئی 

مصنف مارٹن پُخنر اس مضمون میں موسمیاتی تبدیلی کے تئیں انسانی رویے پر کہانیوں اور ادب کے اثرات کے بارے میں گفتگو کر رہے ہیں۔

مونسہ ندیم

July 2023

موسمیاتی تبدیلی کے دور میں قصہ گوئی 

سنجیو سانیال(بائیں سے)،مارٹِن پُچنر اور سی راجا موہن جےپور ادبی میلہ سیشن میں فروری ۲۰۲۳ءمیں۔ 

ہارورڈ یونیورسٹی میں ڈرامہ، انگریزی اور تقابلی ادب کے پروفیسر مارٹن پُخنر کا خیال ہے کہ قصہ گوئی سے اس بات پر گہرا اثر پڑتا ہے کہ ہم موسمیاتی تبدیلی جیسی عالمی فکرمندیوں  پر کیا ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔ اپنی تازہ ترین کتابوں ’’ لٹریچر فار اے چینجنگ پلینٹ‘‘  اور ’’کلچر : دی اسٹوری آف اَس ‘‘  میں پُخنر نے اس بات کی تحقیق کی ہے  کہ روزمرہ کے بیانیے موسمیاتی تبدیلی کو دیکھنے کے ہمارے طریقے کو کیسے   تشکیل دیتے ہیں اور انسانیت کو آگے بڑھانے کے لیے  درست  بیانیے کی تشکیل کس طرح  ضروری ہے۔

پُخنر ایک ایوارڈ یافتہ مصنف ہیں جن کی کتابیں فلسفہ سے لے کر فنون تک پر محیط  ہیں۔ ان کا ’’نورٹن اینتھولوجی آف ورلڈ لٹریچر‘‘ اس موضوع پر سب سے زیادہ قابل اعتماد تالیفات میں سے ایک ہے۔

اسپَین نے جے پور  ادبی میلہ ۲۰۲۳ کے موقع پر ان سے گفتگو کی جہاں وہ  نئی دہلی  میں واقع امریکی سفارت خانہ کے کفالت یافتہ ایک سیشن ’’ دی اوشنس: دی وِکٹِمس اینڈ دی سیویئرس‘‘ میں مقرر تھے۔  پیش ہیں انٹرویو کے اقتباسات۔

قصہ گوئی  اور موسمیاتی تبدیلی  ایسے شعبہ جات ہیں ،آپ جس کے ماہر ہیں۔ ان موضوعات میں آپ کی دلچسپی کس چیز نے پیدا کی؟

میرے نزدیک یہ دو مفادات کا اشتراک ہے ۔ گذشتہ ایک دہائی سے  میں اپنی کتاب ’’ دی ریٹن ولڈ‘‘ میں تاریخ پر  کہانی کہنے کے  اثرات پر کام کر رہا تھا۔ اس انتہائی وسیع پرو جیکٹ میں ایسے متون  شامل تھے جن کا اثر اچھا خاصا تھا۔ ساتھ ساتھ میں موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے  بہت فکر مند رہا ہوں۔ کسی موقع پر  میں نے محسوس کیا کہ یہ دونوں مفادات باہم جڑے ہوئے  ہیں۔فطرت کے بارے میں ہم جو کہانیاں سناتے ہیں اور انسانوں کی پیدا کردہ  موسمیاتی تبدیلی کی سمت میں ہم نے جو راستہ اختیار کیا ہے، اس کے درمیان ایک تعلق ہے۔ لہذا، میں نے اپنی کتاب  ’’لٹریچر فار اے چینجنگ پلینٹ‘‘  میں اس تعلق سے سوچنے کی کوشش کی ہے۔

موسمیاتی تبدیلی کے معاملے میں کہانیاں کس حد تک  انسانی رویے اور عمل کو متاثر کرنے کی طاقت رکھتی ہیں؟

اس میں کوئی شک نہیں کہ کہانیاں انسانی رویوں پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ میرا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ جو کچھ بھی پڑھتے ہیں اس سے سوچ یا طرز عمل میں فوری تبدیلی آتی ہے۔ میں اس پر توجہ مرکوز کرتا ہوں جسے میں تمام تہذیبوں کی بنیادی کہانیاں کہتا ہوں جو نسل در نسل  دہرائی  جاتی ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ ہمیں ہمیشہ یہ احساس نہ ہو کہ ان میں سے کچھ بنیادی کہانیوں کا موسمیاتی تبدیلی پر اثر پڑتا  ہے۔ چالیس سال  قبل،  بہت کم لوگوں نے گلگامیش کے مہاکاویہ  یا  بائبل کے بارے میں اس طور پر  سوچا ہوگا۔ لیکن اب ہم فطرت  کے تئیں  انسانی رویوں پر ان کہانیوں کے نادانستہ اثرات کے بارے میں بیدار ہو  رہے ہیں۔

گرچہ  ہم میں سے اکثر سمندروں کو موسمیاتی تبدیلی کے شکار کے طور پر دیکھتے ہیں، آپ کے خیال میں سمندر کس طرح سے  موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے میں مدد کر سکتے ہیں ؟

میرا کہانی سنانے کا طریقہ ان   کہانیوں   کا تجزیہ کرتا ہے جو ہم فطرت کے بارے میں بتاتے ہیں۔ جب موسمیاتی تبدیلی کی بات آتی ہے  تو ہم مخصوص  شخصیات یا کرداروں کی طرف لوٹ آتے  ہیں: غنڈے اور متاثرین۔ کبھی کبھی،  غنڈوں  اور متاثرین کی شناخت کرنا  مفید ہو سکتا  ہےلیکن میں نے محسوس کیا ہے کہ ہم ان پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مجھے سیشن(جے پور ادبی میلہ ۲۰۲۳)اور اسے تیار کرنے کا  طریقہ پسند آیا۔ اس نے اس بات پر توجہ مبذول کرائی  کہ ہم کتنی جلدی سمندر جیسی وسیع اور پیچیدہ چیز کو  بھی شکار یا نجات دہندہ کا رول سونپ دیتے  ہیں۔ میرے  نزدیک  اہم بات یہ تھی کہ ہمیں اس بارے میں زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے کہ ہم سمندر کے بارے میں  کیسے   بات کرتے ہیں۔ یہ کردار ایک خاص قسم کی کہانی میں ایک خاص کردار میں سمندر کو دیکھتے  ہیں  اور  اس بات کا امکان ہے کہ یہ کہانی بہت محدود اور گمراہ کن ہو ۔ ہمیں سمندر کے لیے ایک نیا رول  تلاش کرنے کی ضرورت ہے جو حقیقی سمندری سائنس پر مبنی ہو۔

امریکہ اوربھارت  ہمارے سمندروں کی حفاظت اور ایک پائیدار نیلی معیشت کو یقینی بنانے میں کیارول  ادا کر سکتے ہیں؟

سمندری حیاتیات سے لے کر اقتصادیات  تک  کرنے کی  بہت ساری چیزیں ہیں جو میری مہارت سے بعید ہیں ۔ امریکہ اور بھارت  دونوں ایسے ممالک ہیں جہاں انتہائی وسیع ساحلی پٹی موجود ہے۔ اور پھر بھی ان کے سیاسی افسانوں نے زمین پر توجہ مرکوز کی ہے۔ہر ایک ملک کا ’’دل‘‘ نیویارک سٹی یا ممبئی  جیسے بندرگاہ والے شہروں میں نہیں ہے، بلکہ زمین میں ہے  جس کی حیثیت مرکزی ہے۔ لہٰذامیرے خیال میں، دونوں ممالک کے لیے  جو چیز مطلوب ہے ، وہ  ہے سمندر کی طرف  ثقافتی منتقلی ۔ میرے خیال میں امریکہ اوربھارت  دونوں اس تبدیلی میں ایک دوسرے  کی مدد کر  سکتے ہیں۔

خواہشمند مصنفین کے لیے  کوئی تجویز  کہ وہ موسمیاتی تبدیلی جیسے مسائل کو بہتر طریقے سے کیسے حل کر سکتے ہیں؟

میرے نزدیک بنیادی مقصد تسلط، وسائل کے حصول اور انتقام کی پرانی کہانیوں سے نجات حاصل کرنا  ہے۔ لیکن نجات حاصل کرنا کہنے سے زیادہ مشکل ہوگاکیونکہ ان کہانیوں کا اتنے عرصے سے غلبہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں اس وقت لکھنے والوں کی سخت ضرورت ہے۔ ایسے لوگوں کی ضرورت ہے  جو افسانے، غیرافسانے  ، تمام فن پاروں اور میڈیا میں کام کرتے ہوں۔ مجھے لگتا ہے کہ ہمیں مقامی کہانیوں سے لے کر  مکمل تہذیبوں پر مبنی بڑے پیمانے کی  کہانیوں تک ہر چیز کی ضرورت ہے  ۔ ہمیں سانحات سے زیادہ مزاح کی ضرورت ہے۔ ہمیں  ان چھوٹی چھوٹی تبدیلیوں کی کہانیوں کی ضرورت ہے جن سے فرق پڑا  اور بڑی ثقافتی تبدیلیوں کی کہانیوں کی ضرورت ہے  جو حقیقت میں کام آئیں ۔

جب موسمیاتی تبدیلی کی بات آتی ہے تو ہمارے پاس سائنس ہے۔ ہمارے پاس انجینئرنگ کے بہت سے حل ہیں۔ اب ہمیں ثقافتی تبدیلی کی ضرورت ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ تینوں میں سب سے مشکل ہے  ۔ ہم پھر بھی کافی عزم کے ساتھ اس سے نمٹ نہیں رہے ہیں۔لیکن مجھے لگتا ہے کہ چیزیں آہستہ آہستہ   بدل رہی ہیں۔


اسپَین نیوز لیٹر کو مفت میں ای میل پر حاصل کرنے کے لیے لنک میں دیے گئے فارم کو بھریں: https://bit.ly/SubscribeSPAN



تبصرہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے